خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 82

$1957 82 خطبات محمود جلد نمبر 38 میری ہتھیلی پر لکھ دیتے تھے۔جب میں گواہی دینے آتا تھا اور ڈپٹی کمشنر صاحب مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ تمہیں امرتسر میں کس کے گھر بھیجا گیا تھا۔تو میں ہاتھ اُٹھاتا تھا اور اُس پر سے نام دیکھ کر کہ دیتا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے فلاں احمدی کے پاس بھیجا تھا۔غرض اُس نے ساری باتیں بتا دیں اور سر ڈگلس نے اگلی پیشی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بری کر دیا۔تو دیکھو! یہ سب واقعات ہمارے لیے آیات بینات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سر ڈگلس کے لیے اور آیات بینات بھی پیدا کیں۔ایک آیت پینہ یہ تھی کہ انہیں ٹہلتے ٹہلتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نظر آتی تھی اور وہ تصویر کہتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں۔میرا کوئی قصور نہیں۔پھر انہوں نے خود مجھے سنایا کہ ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک ہندوستانی آئی سی۔ایس آیا ہوا تھا۔اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اپنی زندگی کے عجیب حالات میں سے کوئی ایک واقعہ بتا ئیں تو میں نے اسے یہی مرزا صاحب والا واقعہ سنایا۔میں یہ واقعہ سنا رہا تھا کہ بیرے نے ایک کار ڈلا کر دیا اور کہا باہر ایک آدمی کھڑا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے کہا اُس کو اندر بلا لو۔جب وہ شخص اندر آیا تو میں نے کہا نوجوان ! میں آپ کو جانتا نہیں۔آپ کون ہیں؟ اس نوجوان نے کہا آپ میرے والد کو جانتے ہیں۔آپ ان کے واقف ہیں۔ان کا نام پادری وارث دین تھا۔میں نے کہا ہاں! میں ابھی ان کا ذکر کر رہا تھا۔وہ نوجوان کہنے لگا ابھی تار آئی ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔وارث دین ایک پادری تھا جس نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو خوش کرنے کے لیے اُس کی طرف سے یہ ساری کارروائی کی تھی۔مگر خدا تعالیٰ نے ڈپٹی کمشنر صاحب پر حق کھول دیا اور خود جو گواہ تھا۔اُس نے بھی اقرار کر لیا کہ جو کچھ کیا جا رہا ہے یہ سب جھوٹ ہے۔مگر عین اُس وقت جب سر ڈگلس وارث دین کا ذکر کر رہے تھے اُس کے بیٹے کا وہاں آنا اور اپنے والد کی وفات کی خبر دینا عجیب اتفاق تھا۔سر ڈگلس اپنی موت تک جس احمدی کو بھی ملتے رہے اُسے یہ واقعہ بتاتے رہے۔انہوں نے مجھے بھی یہ واقعہ سنایا۔چودھری فتح محمد صاحب اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی یہ واقعہ سنایا۔1924ء میں جب میں وہاں گیا تھا تو اُن کی صحت اچھی تھی۔یہ بتیس سال قبل کی بات ہے۔اب وہ ترانو۔سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے 1924ء میں ان کی عمر اکسٹھ سال تھی۔اس دفعہ جب میں انگلینڈ گیا تو میں نے انہیں بلایا تو انہوں نے معذرت کر دی اور کہا میں اب بڑھا ہو گیا ہوں اور