خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 64

1957ء 64 خطبات محمود جلد نمبر 38 نکال کر ظاہر میں ہمارے سامنے رکھ دے۔ اگر وہ ایسا کر دے تب تو وہ مذہب ہے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ ایک بے فائدہ چیز ہے کہ جس کے آنے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور جس کے نہ آنے سے ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کو کس طرح پورا کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمنوں میں سے ایک ہندہ بھی تھی۔ وہ اتنی شدید دشمن تھی کہ جنگِ اُحد کے موقع پر لوگوں کو شعر پڑھ پڑھ کر بھڑ کاتی تھی کہ جاؤ اور اسلامی لشکر پر حملہ کرو اور جب ایک خطر ناک موقع مسلمانوں کے لیے آیا تو اس نے کہا جو آدمی حضرت حمزہ کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا تھے اور ان سے اسے عداوت تھی کلیجہ نکال کر میرے پاس لے آئے۔ اسی طرح ان کے کان کاٹ کر لے آئے تو میں اسے انعام دوں گی ۔ لوگوں میں یہ غلط طور پر مشہور ہو گیا ہے کہ اس نے کلیجہ چبایا تھا۔ کسی صحیح سند سے اس کا ثبوت معلوم نہیں ہوتا ۔ در حقیقت اس نے انعام مقرر کیا تھا کہ جو شخص ان کا کلیجہ نکال کر لائے اور کان کاٹ کر لائے تو میں اس کو انعام دوں گی ۔ گویا یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ وہ واقع میں مارے گئے ہیں۔ جنگ کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ آپ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ یہ چا کی ایسی بے حرمتی کی گئی ہے تو طبعی طور پر آپ کے دل میں جوش آیا اور آپ نے فرمایا میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کروں گا ۔ جب انہوں نے ابتدا کر دی ہے اور مسلمان شہداء کے ساتھ اس قسم کا سلوک کیا ہے تو میں بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی سلوک کروں گا ۔ تب اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ تمہیں اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہیں ۔2 اب دیکھو! اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کتنا حکمت والا تھا۔ ہندہ بے شک لڑائی کرنے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں سے تھی جو مردوں کو لڑائی کے لیے اُکساتی تھی مگر اُس کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جو بعد میں اسلامی لڑائیوں میں مارے گئے یا مارے جانے کے قریب پہنچے۔ اگر ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا جو ہندہ نے حضرت حمزہ کی لاش کے ساتھ کیا تھا تو بعد میں جو نشانات ظاہر ہوئے وہ کیسے ظاہر ہوتے ۔ مثلاً انہی لوگوں میں ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا۔ انہی لوگوں میں خالد بن ولید بھی تھے۔ انہی لوگوں میں عمرو بن عاص بھی تھے۔ فرض کرو یہ سب لوگ مارے جاتے اور ان کے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو ہندہ نے حضرت حمزہ کی نعش کے ساتھ کیا تھا تو بعد میں ان لوگوں