خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 63

$1957 63 9 CO خطبات محمود جلد نمبر 38 لَقَدْ اَنْزَلْنَا ايةٍ مُّبَيِّنَتِ وَاللهُ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ اگر انسان حقیقی مومن بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایمان کی تازگی کے سامان پیدا کرتارہتا ہے (فرمودہ 22 مارچ 1957ء بمقام ربوہ ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ أَنْزَلْنَا ايةٍ مُّبَيِّنَتٍ وَاللهُ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 1 یعنی ہم نے ایسی آیتیں اتاری ہیں جو حقیقت حال کو کھول کر رکھ دیتی ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر لیتے ہیں وہ انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مذہب ایسی باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو زیادہ ترغیب میں ہوتی ہیں۔اس لیے وہی مذہب انسان کو فائدہ دے سکتا ہے اور وہی مذہب انسان کو ہدایت دے سکتا ہے جس میں آیات بینات ہوں۔یعنی ایسے نشان ہوں جو کہ غیب کو کھول کر رکھ دیں اور چھپی ہوئی باتوں کو ظاہر کر دیں۔اگر غیب غیب ہی رہے اور چھپی ہوئی بات ظاہر نہ ہو تو پھر مذہب نے کیا فائدہ دیا؟ جہاں تک غیب کی باتوں کا سوال ہے سارے لوگوں کے لیے وہ غیب ہی غیب ہے۔مذہب ظاہر ہوتا یا نہ ہوتا وہ غیب ہی ہوتا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی توحید غیب میں تھی۔اگر مذہب نہ آتا تب بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی تو حید غیب میں ہی رہتی۔مذہب کا فائدہ تو تبھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی ہستی کو غیب۔