خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 56

1957ء 56 خطبات محمود جلد نمبر 38 کے لیے اُس کے پاس جاؤ تو کیا یہ فساد سمجھا جائے گا یا اسے حق کا ادا کرنا قرار دیا جائے؟ اسی طرح اگر دوسرا شخص تمہار ا سچا دوست ہے اور وہ حق کی قدر و قیمت کو سمجھتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ تم سے لڑائی کرے وہ تمہارا منون ہوگا کہ تم نے اسے حق پہنچایا۔ جس طرح وہ شخص جس کے تم نے سو روپے تم جاؤ وہ دینے ہوں جب تم اُس کے سو روپے ادا کرنے کے لیے اُس کے پاس جاؤ تو وہ تمہارا ممنون ہوتا ہے۔ پس صحیح طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرو اور اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب پہلے پہل یہاں ہمارے دوست آئے تو اُس وقت وہ صرف کا تین چار سو تھے مگر اب میر پور خاص تک ان کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اور اگر وہ ہمت کریں تو اگلے چند سالوں میں لاکھوں بلکہ کروڑوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تم کو اپنے حق ادا کرنے اور ( الفضل 26 فروری 1957ء) اپنے فرائض کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔