خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 55

$1957 55 خطبات محمود جلد نمبر 38 اُس کا بُرا حال ہو گیا اور بھوکا مرنے لگا۔ایک دن وہ کسی امیر کی حجامت بنانے لگا تو اس نے پوچھا بتاؤ! شہر کا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگا حضور! شہر کا کیا پوچھتے ہیں؟ سب بھو کے مرتے ہیں۔اس پر جس شخص نے تحصیلی چھپائی تھی اس نے تھیلی لا کر اس کے سامنے رکھ دی اور کہا تم سارے شہر کو بھوکا نہ مارو اپنی تھیلی واپس لے لو۔تو حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اوپر ہی دوسرے کا قیاس کیا کرتا ہے۔اگر کسی شخص کو اپنے دوستوں پر حسن ظنی ہے تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ ان دوستوں کے بھی آگے ایسے دوست ہو سکتے ہیں جن پر انہیں حسنِ ظنی ہو۔اور اگر اس کے چار پانچ مخلص دوست ہیں تو اُن کے بھی چار چار، پانچ پانچ مخلص دوست ہو سکتے ہیں۔اگر اس ذریعہ کو ہی اختیار کر لیا جائے اور ہر شخص اپنے پانچ دوستوں تک حق پہنچائے اور ان پانچ دوستوں میں سے ہر شخص اپنے پانچ پانچ دوستوں کے پاس جائے اور انہیں صداقت سے روشناس کرے اور پھر وہ پچھپیں آدمی آگے اور پانچ پانچ دوستوں کا انتخاب کریں اور انہیں سچائی سے آگاہ کریں تو ایک آدمی صرف تین واسطوں میں سوا سو آدمیوں تک اپنے خیالات پہنچا سکتا ہے۔ہمارا اس وقت یہاں دس ہزار آدمی ہے۔اگر دس ہزار آدمی اسی طریق پر کوشش کرے تو سال بھر میں یہاں کی جماعت ساڑھے بارہ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور اس سے اگلے سال ساڑھے بارہ کروڑ بن سکتی ہے۔مگر یہ طریق اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب تمہارے دل میں لوگوں کی اتنی ہمدردی ہو کہ ہر شخص جو تمہارے محلہ کا یا تمہارے علاقہ کا یا تمہاری تحصیل کا یا تمہارے ضلع کا ہو وہ تمہیں اپنا دوست اور یار غار سمجھے۔اور اُس کا دل اس یقین سے پُر ہو کہ تم اس کے بچے خیر خواہ ہو۔اگر تم اس کے دل میں یہ یقین پیدا کر دو تو حق پہنچانے پر کسی لڑائی جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔بلکہ وہ خود تمہارے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے اپنے سلسلہ کے حالات بتاؤ۔اور تمہارا اُسے سلسلہ کے حالات بتانا اسے تبلیغ کرنا نہیں ہوگا بلکہ اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔بلکہ اگر تم اُسے حق نہیں پہنچاؤ گے تو وہ تم پر ناراض ہو گا کہ تم میرے اچھے دوست ہو کہ مجھے حق بھی نہیں پہنچاتے اور اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیتے ہو۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ تبلیغ سے فساد پیدا ہوتا ہے۔مگر ان میں سے کوئی نہیں جو یہ کہے کہ حق ادا کرنے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔اگر تم نے کسی کے سو روپے دینے ہوں اور تم وہ روپے دینے