خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 54

$1957 54 خطبات محمود جلد نمبر 38 کیا گیا ہے اور اپنے دوستوں ، عزیزوں اور رشتہ داروں کو جنہیں حق بات پہنچانا کسی فساد اور لڑائی کا موجب نہیں ہوسکتا حق پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔آخر ہر رشتہ دار کا اپنے رشتہ دار پر اور ہر دوست کا اپنے دوست پر اور ہر بھائی کا اپنے بھائی پر حق ہوتا ہے۔دنیا میں کوئی بیوی ایسی نہیں ہوسکتی جو یہ کہے کہ میرا خاوند خواہ جہنم میں چلا جائے مجھے اُس کی کوئی پروانہیں اور نہ کوئی خاوند ایسا ہوسکتا ہے جو کہے کہ خواہ میری بیوی جہنم میں چلی جائے مجھے اس کی پروا نہیں۔پس خاوند کا اپنی بیوی کو یا بیوی کا اپنے خاوند کو حق بات پہنچانا تبلیغ کرنا نہیں بلکہ اپنے فرض کو ادا کرنا ہے۔اسی طرح بھائی کا اپنے بھائی کو حق پہنچانا تبلیغ نہیں کہلا سکتا۔بلکہ بھائی کا اپنے بھائی کو حق پہنچانا اس کا فرض ہے۔اسی طرح دوست کا اپنے دوست کو حق پہنچانا تبلیغ نہیں بلکہ اُس کا فرض ہے اور اگر وہ اپنے اس فرض کو ادا نہیں کرتا تو وہ دوست نہیں بلکہ دشمن سمجھا جائے گا اور اُس کا دوست بھی اُسے اپنا خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ قرار دے گا کہ اُس نے اُسے سچائی سے محروم رکھا۔اگر اس رنگ میں ہر رشتہ دار اپنے رشتہ دار کو اور ہر دوست اپنے دوست کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے حق پہنچائے تو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا جس کے چار چار پانچ پانچ دوست نہ ہوں اور پھر اُن دوستوں کے آگے چار چار، پانچ پانچ دوست نہ ہوں۔اگر ایک شخص اپنے دوستوں کے پاس جاتا اور انہیں صداقت سے آگاہ کرتا ہے اور وہ اس صداقت کو آگے اپنے دوستوں تک پہنچاتے ہیں تو تھوڑے دنوں میں ہی احمدیت کی آواز لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی دنیا میں عام طور پر انسان دوسروں کے حالات کا اندازہ اپنے حالات سے کیا کرتا ہے اور جس حالت میں وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے اُسی حالت میں وہ ساری دنیا کو سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ کوئی نائی تھا جسے کسی امیر آدمی نے خوش ہو کر دو ہزار اشرفی انعام دے دی۔وہ مہینہ بھر میں مشکل سے آٹھ دس روپے کمایا کرتا تھا۔اسے یکدم جو میں ہزار روپیل گیا تو اس کا دماغ خراب ہو گیا۔وہ جہاں بھی جاتا تھیلی اپنے ساتھ لیے پھرتا۔چونکہ امیروں کا نائی تھا اُسے یہ خطرہ نہیں تھا کہ کوئی اُسے اُٹھالے گا اس لیے وہ بے دھڑک اُسے اپنے ساتھ رکھتا۔اور جب لوگ اس سے پوچھتے کہ بتاؤ شہر کا کیا حال ہے؟ تو کہتا حضور ! کوئی کمبخت ایسا نہیں ہوگا جس کے پاس تیس ہزار روپیہ بھی نہ ہو۔ایک دن انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے مذاق کے طور پر اُس کی تھیلی اٹھالی تھیلی کے گم ہو جانے سے