خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 31

1957ء 31 5 خطبات محمود جلد نمبر 38 رویا کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مومن اپنے تو کل اور اُمید کو بڑھائے اور یقین رکھے کہ خدا ضرور کچھ ظاہر کرے گا تعبیر الرویا بڑا نازک اور اہم علم ہے۔ رویا کی حقیقی تعبیر اس کے پورا ہونے پر ہی ظاہر ہوتی ہے فرموده یکم فروری 1957 ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ، ذاورسورۃ میں نے پچھلے خطبہ میں کہا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ گزشتہ ہفتہ میں قریب قریب وقت میں مجھے ایک ہی مضمون کے متعلق دو دفعہ رویا ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد اس ہفتہ میں میں نے پھر دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں ۔ لیکن اس دفعہ میں نے اپنے آپ کو مسجد مبارک میں نہیں دیکھا بلکہ اس صحن میں دیکھا ہے جس میں پارٹیشن کے وقت ام ناصر رہا کرتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی وفات کے قریب عرصہ میں گرمیوں میں وہاں سویا کرتے تھے۔ اس صحن میں ایک دروازہ کھلتا ہے۔ جو نیچے ڈیوڑھی سے آتا ہے جو اُس گلی کے ساتھ ملتی ہے جو میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کے پہلو میں گزرتی تھی ۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پرانا مکان تھا، دوسری طرف