خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 28

$1957 28 خطبات محمود جلد نمبر 38 دے گا کہ وہ وسیع الحوصلگی اختیار کریں۔غیر قوموں کے آگے محبت کا ہاتھ بڑھائیں اور اُن کو کہیں کہ آؤ اور جو عظمتیں ہم کو حاصل ہیں اُن میں تم بھی شریک ہو جاؤ۔اب تو یہ حالت ہے کہ مجھے پڑھ کے شرم آئی کہ مرکزی وزیر تجارت ابوالمنصور احمد جو بنگال کے رہنے والے ہیں اُن کے علاقہ میں کوئی خاص شہد ہوتا ہے وہ نئی دہلی گئے تو اپنے ساتھ اُس شہد کے دو مٹکے بھارت کے صدر راجندر پرشاد اور وزیر اعظم پنڈت نہرو کو دینے کے لیے بھی لے گئے۔اتنی سی بات پر یہاں اخباروں میں شور پڑ گیا کہ ابوالمنصوراحمد اتنا بے حیا ہے کہ وہ ان کو تحفہ دینے کے لیے شہد لے گیا۔اُس نے واپس آکر بڑی دلچسپ تقریر کی اور کہا میں صدر راجندر پرشاد اور وزیراعظم پنڈت نہرو کے لیے شہد تو لے گیا تھا لیکن یہاں کے لوگوں نے اپنی تنگدلی کی وجہ سے میرے اس شہد پر اتنی ہی تنقید کی کہ وہاں جاتے جاتے شہد کی مٹھاس ہی ختم ہو گئی۔مطلب یہ کہ یہاں اس طرح نیش زنی کی گئی کہ اس نیش زنی کے بعد ان کو شہر زہر معلوم ہوا ہوگا میٹھا معلوم نہیں ہوا ہوگا۔تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تنگدلی چھوڑ دیں اور اپنے دامن کو سب کے لیے وسیع کریں۔اگر ہم ایسا کریں گے تو خدا تعالیٰ کی رحمت بھی ہمارے لیے وسیع ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کے ہاں اتنی بڑائیاں ہیں کہ ان بڑائیوں کو ہندوؤں سکھوں اور عیسائیوں میں تقسیم کر کے بھی ہمارا حصہ اتنا زیادہ بچ جاتا ہے کہ جس حصہ کے برابر دنیا کے کسی بڑے سے بڑے آدمی کو بھی نہ ملا ہو۔دیکھو! خدا تعالیٰ جنت کا مالک ہے اور خدا تعالیٰ اس دنیا کا بھی مالک ہے۔اور جنت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنی مومن کو بھی جو جنت ملے گی وہ اتنی بڑی ہوگی کہ اُس کا پھیلاؤ زمین و آسمان کے پھیلاؤ جیسا ہوگا۔3 اب کیا خدا تعالیٰ کو اگلے جہان کی میں ہی طاقت حاصل ہے اس جہان میں حاصل نہیں؟ جس خدا نے اگلے جہان میں ایسی جنت بنائی ہے وہ یقیناً اس دنیا میں بھی ایسی جنت بنا سکتا ہے اور ہر مسلمان کو اتنا بڑا حصہ دے سکتا ہے کہ عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کو دینے کے بعد بھی اس کا حصہ اتنا زیادہ ہو کہ زمین و آسمان کا پھیلاؤ بھی اس سے چھوٹا رہ جائے۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور اُسی سے مانگو۔بہت سے مسلمانوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ اِس وجہ سے مایوس ہیں کہ ہماری آبادی بہت تھوڑی ہے اور ہمارے پاس روپیہ نہیں۔ہندوستان کے پاس بہت روپیہ ہے اور اس کی آبادی