خطبات محمود (جلد 38) — Page 186
$1957 186 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس تقریب کے فوٹو لیے جس میں ہمارا رئیس التبلیغ قرآن دے رہا ہے اور پریذیڈنٹ اُسے چوم رہا اور اپنے سر پر رکھ رہا ہے۔غرض ہر جگہ اللہ تعالیٰ ہمارے مبلغین کو قرآن کریم کی وجہ سے اپنی برکتوں سے حصہ دے رہا ہے۔ایک ملک جس کا نام لینا مناسب نہیں۔اس کی ایک حکومت کے پریذیڈنٹ کے پاس ایک بڑا آدمی آیا اور اس نے کہا کہ آپ لوگ احمدی جماعت سے میل جول رکھتے ہیں مجھے بھی ان سے ایک قرآن تحفہ لے دیجیے۔ہمارے ملک میں قرآن نہیں جاسکتا۔لیکن اگر وہ مجھے تحفۂ قرآن دے دیں تو میں اسے عجائبات کے طور پر اپنے ساتھ لے جاسکتا ہوں۔پھر اس نے کہا کہ انہوں نے فلاں آدمی کو قرآن کریم تحفہ کے طور پر دیا ہے لیکن میں اس سے بڑی پوزیشن کا ہوں۔اگر یہ مجھے قرآن کریم دے دیں تو اس سے ہمارے ملک میں بھی قرآن کی اشاعت ہو جائے گی۔اسی طرح جب مبارک احمد گیا تو تو اس نے قرآن تحفہ کے طور پر بڑے بڑے آدمیوں کو دیا اور انہوں نے اسے خوشی سے قبول کیا۔بعض نے سرکاری کاموں کی وجہ سے معذوری بھی ظاہر کی مگر باقی سب نے اعزاز و اکرام کیا۔ملاقات کا موقع دیا اور ہماری جماعت کا شکریہ ادا کیا۔اور جو لوگ ملاقات کا موقع نہیں دیتے خود اُن کے ملک والے اُن کے خلاف ہو جاتے ہیں۔1924ء میں جب میں یورپ گیا تو روم میں بھی ٹھہرا۔وہاں میں نے پوپ کو لکھا کہ تم عیسائیت کے پہلوان ہو اور میں اسلام کا پہلوان ہوں۔مجھے ملاقات کا موقع دوتا کہ بالمشافہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق میں بات کر سکوں۔اس کے جواب میں پوپ کے سیکرٹری کی طرف سے مجھے چٹھی آئی کہ پوپ صاحب کی طبیعت خراب ہے اس لیے وہ مل نہیں سکتے۔انہی دنوں اٹلی کے ایک اخبار کا ایڈیٹر جو سوشلسٹ تھا مجھے ملنے آیا۔وہ ایسا اخبار تھا جس کے دن میں بارہ ایڈیشن نکلتے تھے۔ہمارے ”الفضل“ کا دن میں صرف ایک ایڈیشن نکلتا ہے اور وہ بھی صرف چند ہزار کی تعداد میں۔مگر اس کے ایک دن میں بارہ ایڈیشن نکلتے تھے اور ہر ایڈیشن پچیس پچیس ہزار چھپتا تھا۔باتوں باتوں میں اس نے ذکر کیا کہ میں اصل میں شنگھائی میں پروفیسر ہوں۔میں نے کہا پھر تم یہاں کس طرح آئے اور اخبار کے ایڈیٹر کس طرح بن گئے ؟ اُس نے کہا کہ اس اخبار کا ایڈیٹر میرا دوست تھا۔وہ ایک لمبے عرصہ تک کام کرنے کے بعد بیمار ہو گیا تو اس نے رُخصت لینی چاہی۔اُس نے مجھے لکھا کہ تم میرے