خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 185

$1957 185 خطبات محمود جلد نمبر 38 کرتے ہیں مگر وہ لوگ اشاعتِ قرآن کے ذریعہ سے ترقی کریں گے اور اشاعتِ قرآن کے ذریعہ سے ہی عزت حاصل کریں گے۔دیکھ لو! ربوہ سے ہمارا آدمی اگر کسی سرکاری افسر کو ملنے کے لیے جائے تو بعض دفعہ دس دس دن تک اُسے ملاقات کا موقع نہیں ملتا۔مگر بیرونی ممالک کے بادشاہ اور وزرائے اعظم تک ہمارے مبلغین کا احترام کرتے اور اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایران کا بادشاہ لندن گیا تو اسے ہمارے مبلغ نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ تحفہ کے طور پر پیش کیا۔اُس نے قرآن کریم کو بوسہ دیا، اُسے سر پر رکھا اور ہمارے مبلغ سے کہا کہ میں آپ کا بڑا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے یہ تحفہ دیا۔اب مجھے بھی اجازت دیجیے کہ میں بھی آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کروں۔چنانچہ اُس نے واپس جا کر اپنے امبیسیڈر کی معرفت ایک نہایت اعلی قسم کا قطب نما ہماری مسجد کے لیے تحفہ کے طور پر بھجوا دیا۔میں جب علاج کے سلسلہ میں لندن گیا تو مجھے مولود صاحب 3 نے وہ قطب نما دکھایا تھا۔نہایت قیمتی اور اعلیٰ درجہ کا قطب نما تھا اور ایک خوبصورت ڈبہ میں رکھا ہوا تھا۔غرض جہاں بادشاہ ایران کے پاس بڑے بڑے دولت مندوں کی بھی رسائی نہیں ہوتی وہاں وہ ہمارے مبلغ کا شکر یہ ادا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بھی اجازت دیجیے کہ میں واپس جا کر آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ بھجوا ؤں اور پھر وہ اپنے امبیسیڈر کی معرفت تحفہ بھجواتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے میری طرف سے قبول کیا جائے۔کیونکہ آپ لوگ اسلام کی اشاعت کر رہے ہیں۔غرض بڑے بڑے آدمی ہمارے مبلغین سے ملنے میں اپنی عزت محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے تعلقات بڑھائیں۔ایک مبلغ نے لکھا ہے کہ اُس نے جرمنی کے ایک پرانے شہر کے بڑے افسروں کے سامنے کی قرآن کریم تحفہ کے طور پر پیش کیا اور اُن سے خواہش کی کہ وہ سرکاری زمین میں سے کچھ زمین ہمارے کی پاس بیچ دیں۔کیونکہ وہ پبلک کی زمینوں سے بہت سستی ہوتی ہے۔انہوں نے اس کا وعدہ کر لیا اور اب ہم اُس جگہ پر مسجد بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔یہ اعزاز ہمارے مبلغین کو اسی لیے حاصل ہے کہ وہ قرآن کریم کی اشاعت کر رہے ہیں اور اس کی تعلیم لوگوں میں پھیلا رہے ہیں۔دوسری جگہوں پر بھی یہی حال ہے۔انڈونیشیا کے پریذیڈنٹ کو قرآن کریم پیش کیا گیا تو اُس نے بڑی محبت اور خلوص کے سال اُسے چھو ما، اپنے سر پر رکھا اور پھر ہمارے مبلغ کا شکر یہ ادا کیا۔سرکاری فوٹو گرافروں نے بھی