خطبات محمود (جلد 38) — Page 175
1957ء 175 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس امر کی طرف بھی پھرائی گئی ہے کہ کئی دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے بڑے زور سے مسلمانوں کو تقدیر کے مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور تقدیر کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان پر ایک فیصلہ کرتا ہے جو زمین پر نافذ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ انسان کے لیے بُرا فیصلہ ہوتا ہے تو اُس کو بھی کوئی روک نہیں سکتا۔ اور اگر اچھا ہو تو اسکو بھی کوئی روک نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں کہ جو لکھی ہے وہ تو ہو کر رہنی ہے۔ مگر اس جگہ اس مسئلہ کے ایک دوسرے پہلو کو بیان فرمایا ہے کہ تقدیر ٹل بھی سکتی ہے۔ آخر آسمانی تقدیر کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ وہ تقدیر آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ اگر کوئی ٹپکنے والی چھت ہو تو جب بھی برسات ہو گی پانی ٹپکنے لگ جائے گا ۔ مگر آسمان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے ایک محفوظ چھت بنایا ہے۔ یعنی اگر تم چاہو تو آسمان کو اس طرح بند کر سکتے ہو کہ کوئی بری تقدیریتم پر نازل ہی نہ ہو۔ لیکن ظاہر ہے کہ اگر کوئی ٹھیکنے والی چھت ہو تو اُس چھت پر چڑھ کر ہی اُس کے سوراخ کو بند کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بری تقدیر کو روکنا چاہے تو اُسے بھی آسمان پر چڑھ کر ہی اسے روکنا پڑے گا ۔ پس جَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا من مَّحْفُوظًا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اصل علاج یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرے اور اُس سے دعائیں کرے کہ وہ اپنی بری تقدیروں کو روک دے۔ یہ ظاہر ہے کہ انسان کے دل میں اچھی تقدیر روکنے کی خواہش نہیں ہوگی ۔ اس کے دل میں یہی خواہش ہو گی کہ بُری تقدیریں نہ آئیں۔ اور بُری تقدیروں کے روکنے کا یہی طریق ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائے اور اُس سے دعاؤں سے کام لے۔ پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ بُری تقدیر کے آثار دیکھ کر یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس تقدیر نے تو ٹلنا ہی نہیں غلطی پر ہیں۔ تقدیر یل سکتی ہے۔ بُری تقدیر کے نازل ہونے کے یہ معنے ہیں کہ تمہارے آسمان میں کسی گناہ کی وجہ سے سوراخ ہو گیا ہے اور اس سوراخ میں سے بری تقدیریم پر آ گرتی ہے۔ اگر تم آسمان پر جاؤ یعنی اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں کرو تو وہ بری تقدیر بھی مل سکتی ہے۔ غرض اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تم صرف یہ نہ سمجھا کرو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فلاں عذاب آ گیا ہے اب یہ کیسے مل سکتا ہے۔ بلکہ تمہیں سمجھنا چاہیے کہ اس نے خود ہی تمہاری کامیابی کے لیے بھی ایک راستہ کھول دیا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص آسمان پر جا کر اپنی قسمت کے آسمان کو بدلنا چاہے تو بدل سکتا ہے بلکہ اس حد تک بدل سکتا ہے کہ وہ گلی طور پر