خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 8

$1957 8 خطبات محمود جلد نمبر 38 قرآن کریم آسان کر دے اور وہ مسلمان ہو جائیں تو اس سارے علاقہ میں احمدیت کے پھیلنے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔دوسری خبر بھی اس وقت تو بظاہر معمولی ہے مگر تمام حالات جو ہیں ان میں اگر وہ بڑھنا شروع کر دے تو وہ بھی بڑی ترقی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اس ہفتہ جرمنی سے ایک خط آیا ہے کہ ایک جرمن نوجوان نے جو ابھی احمدی نہیں ہوا احمدیت سے دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔وہ نوجوان جرمنی کے ایک بہت بڑے خاندان کا فرد ہے اور اس کا باپ نائسیوں کا ایک لیڈر تھا۔اور اتنا بڑا لیڈر تھا کہ جب پچھلی جنگ میں ہٹلر کو شکست ہوئی اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا کہ ہٹلر کے ماتحت جو بڑے بڑے لیڈر تھے اُن پر مقدمہ چلایا جائے تو جو لوگ اس غرض کے لیے انہوں نے پچھنے اُن میں سے ایک وہ بھی تھا۔چنانچہ اتحادی کورٹ میں اس پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے تین سال کے لیے قید کیا گیا اور اس قید میں اس کے بیوی بچوں کو بھی شامل کیا گیا۔تین سال کے بعد جب وہ قید سے رہا ہوا تو اتحادیوں نے جرمن حکومت سے کہا کہ گو ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے لیکن کچھ مدت تک تم بھی اسے اپنی نگرانی میں رکھو۔چنانچہ تین سال تک جرمن حکومت نے بھی اسے قید رکھا۔جب وہ قید سے رہا ہوا تو چونکہ وہ ملک اور قوم میں بہت اثر و رسوخ رکھتا تھا اس لیے اُسے شمالی جرمنی کے بنگ کا مینجر بنادیا گیا۔ب وہ فوت ہو چکا ہے لیکن اس کا لڑکا اسلام کی طرف مائل ہو گیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر اسلام میری سمجھ میں آ گیا تو میں جرمنی کے بڑے طبقہ کے لوگوں میں جو میرے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تبلیغ اسلام شروع کر دوں گا۔پھر پہلے مجھے علم نہیں تھا لیکن وکالت تبشیر نے مجھ سے ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ پروفیسر ٹلٹاک بھی نازی تھے۔وکالت نے مجھے بتایا کہ پروفیسر ٹلٹاک نے ان سے ذکر کیا ہے کہ وہ بھی نائسی تھے اور نائسیوں میں وہ ایک بڑے عہدہ پر تھے۔انہوں نے بتایا ہے کہ میں ایڈ منسٹر یٹو لائن میں تھا، پرو پیگنڈا لائن یا ملٹری میں افسر نہیں تھا اس لیے شکست کے بعد اتحادیوں نے مجھ پر مقدمہ نہیں چلا یا ورنہ میں ایسا اہم مبر تھا کہ مجھ پر بھی مقدمہ چلایا جاتا۔وہ گزشتہ پیر کو واپس گئے ہیں اور اتوار کی شام کو انہوں نے مجھ سے بھی ذکر کیا کہ میرا ناسیوں میں بہت بڑا اثر تھا۔مجھے تنظیم دفاتر کے کام کا ہیڈ مقرر کیا گیا تھا۔پھر دوسرے نوجوان کے متعلق ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس کے خاندان کے نام کا پتا لگ جائے کی