خطبات محمود (جلد 38) — Page 151
$1957 151 خطبات محمود جلد نمبر 38 لے آؤ۔وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ خدا نے آپ کو یاد فرمایا ہے۔جب آپ چل پڑے تو راستہ میں کوہ قاف آ گیا۔گویا کوہ قاف آسمان کے رستہ میں آتا ہے۔اب جبریل کو رستہ نظر نہ آئے کہ کدھر جانا ہے۔کبھی دائیں جائیں، کبھی بائیں جائیں کبھی ادھر جائیں، کبھی ادھر جائیں مگر کچھ پتا نہ چلے کہ رستہ کونسا ہے۔اُدھر آسمان سے خدا تعالیٰ نے آواز میں دینی شروع کر دیں کہ جبریل! انہیں اتے کیوں نہیں؟ آخر گھبرا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی رستہ تلاش کرو۔جبریل نے کہا کر تو رہا ہوں مگر کچھ پتا نہیں چلتا۔آخر چلتے چلتے کچھ بھنگی چرسی فقیر نظر آئے جو حضرت علی اور امام حسین کے ماننے والے تھے۔جبریل اُن کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہمیں تو کوئی رستہ نظر نہیں آتا آپ ہی بتائیں کہ اب ہم آسمان پر کس طرح جائیں؟ وہ کہنے لگے کہ آرام سے بیٹھ جاؤ۔پہلے ہم بھنگ گھوٹ لیں پھر تمہیں بتائیں گے۔چنانچہ انہوں نے بڑے اطمینان سے بھنگ گھوٹنی شروع کر دی۔وہ پھر گھبرائے اور کہا کہ جلدی بتائیں بہت دیر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا آرام سے بیٹھو، ابھی ہم بھنگ گھوٹ رہے ہیں۔جب بھنگ گھوٹ چکے تو انہوں نے بھنگ کے نَغْدَہ 6 کا ایک گولہ سا بنایا اور یا مولا علی“ کہہ کر زور سے کوہ قاف پر مارا۔اُس گولے کا لگنا تھا کہ پہاڑ پھٹ گیا اور رستہ بن گیا۔جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور دوڑتے ہوئے خدا کے پاس پہنچے۔اللہ تعالی عرش پر بیٹھا ہوا تھا اس نے آپ سے باتیں کیں۔جب باتیں ہو چکیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ الہی ! آپ نے جو اتنی تکلیف فرمائی ہے تو اب ذرا اپنا دیدار بھی کرا دیں۔اللہ تعالیٰ نے پردہ ہٹایا تو وہ کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علی بیٹھے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الہی ! یہ دیدار تو زمین پر روزانہ ہو جاتا ہے۔یہاں بلانے کی آپ نے کیوں تکلیف فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے کہا اس میں بھی رم تھی۔گویا نَعُوذُ باللہ حضرت علی خدا تھے اور معراج پر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو اس میں بھی ایک رمز تھی۔یہ آجکل کے مسلمانوں کی کیفیت ہے مگر وہ متقی اور پر ہیز گار جو امت محمدیہ میں لاکھوں لاکھ گزرے ہیں انہوں نے کبھی ایسا نہیں کہا۔میں صرف اُن بھنگیوں اور چرسیوں کا ذکر کر رہا ہوں جن کا کام لوگوں سے بھیک مانگنا ہوتا ہے اور جو رات دن نشہ میں مدہوش رہتے ہیں اور اسلام کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو اسے اعتراضات کا نشانہ بنانے والی ہوتی ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر بھر میں صرف ایک دفعہ ایک بھنگی فقیر۔ނ