خطبات محمود (جلد 38) — Page 138
1957ء 138 خطبات محمود جلد نمبر 38 جیسے مشہور ہے کہ ایک بڑھیا یوسف کی خریداری کے لیے سوت کی ایک اٹی لے کر آئی ۔ کیسی نے اس سے کہا کہ یوسف تو بڑی قیمتی چیز ہے اس کی تو لاکھوں روپے قیمت پڑے گی اور تو سوت کی ایک آئی لے کر اُس کو خریدنے کے لیے آ گئی ہے۔ اس نے کہا خبر نہیں لاکھوں والے نہ آئیں اور اس آئی کے بدلے میں مجھے یوسف مل جائے ۔ جس طرح اس بڑھیا کو صرف یوسف کی خریداری کی ضرورت تھی ، اس امر کی اُس کی نگاہ میں کوئی حقیقت نہ تھی کہ وہ لاکھوں سے ملتا ہے یا اسی سے، اسی طرح ہمیں تو خدا کی ضرورت ہے۔ اگر ہمیں وہ آئی سے مل گیا تب بھی وہ خدا ہے اور اگر وہ کروڑوں سے مل گیا تب بھی وہ خدا ہے، اگر وہ مسجدوں سے ملا ہے تب بھی خدا ہے اور اگر وہ تنظیم سے ملا ہے تب بھی خدا ہے۔ پس یہ الہام ہماری صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم اس بحث میں نہ پڑو کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ تم یہ دیکھو کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔ 66 ایک مصری اخبار الفتح “ نے ایک دفعہ لکھا کہ تیرہ سو سال میں بڑے بڑے مسلمان بادشاہ گزرے ہیں مگر ان میں سے کسی کو اسلام کی اشاعت کی وہ توفیق نہیں ملی جو اس چھوٹی سی جماعت کومل رہی ہے۔ پس ہمیں اس سے کیا کہ علماء ہمیں کافر کہتے ہیں ۔ اگر وہ ہمیں کافر کہتے ہیں تو بیشک کہتے رہیں ہمیں تو خدا چاہیے کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک راجہ نے ایک دفعہ بینگن کی بھجیا کھائی جو اُسے بڑی مزیدار معلوم ہوئی۔ وہ دربار میں آیا اور کہنے لگا کہ بینگن بڑی اچھی چیز ہے۔ آج میں نے اس کی بھجیا کھائی ہے جو بڑی مزیدار تھی۔ اس پر ایک درباری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور ! بینگن تو عجیب چیز ہے۔ جس وقت یہ پودے کے ساتھ لڑکا ہوا ہوتا ہے تو بالکل یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی صوفی ایک کو نہ میں سر نیچے اور پیر اونچے کر کے خدا کی عبادت میں مشغول ہو اور پھر حضور ! اگر طب کی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں تو حضور کو معلوم ہوگا کہ اس میں بڑی بڑی خوبیاں ہیں۔ چنانچہ اس نے ایک ایک کر کے بینگن کی خوبیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔ اس کے بعد چند دن متواتر جو راجہ نے بینگن استعمال کیے تو اُسے بواسیر ہو گئی۔ اس پر وہ دربار میں آ کر کہنے لگا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ بینگن بڑی اچھی چیز ہے مگر معلوم ہوتا ہے اس میں بھی نقص ہیں۔ میں نے چند دن بینگن کھائے تو مجھے بواسیر