خطبات محمود (جلد 38) — Page 139
$1957 139 خطبات محمود جلد نمبر 38 ہوگئی ہے۔اس پر وہی درباری پھر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور! بینگن بڑی خراب چیز ہے۔طب کی ا کتابوں میں اس کا یہ نقص بھی لکھا ہے ، وہ نقص بھی لکھا ہے۔طب کی کتابوں میں آخر ہر چیز کے فوائد کا بھی ذکر ہوتا ہے اور نقصانات کا بھی۔اس نے نقصانات بتانے شروع کر دئیے کہ اس میں یہ بھی خرابی ہوتی ہے اور وہ بھی خرابی ہوتی ہے۔اور پھر کہنے لگا حضور! اس کی شکل بھی دیکھیے کتنی منحوس ہوتی ہے۔جس وقت یہ کمبخت پودے کے ساتھ لٹکا ہوا ہوتا ہے تو بالکل یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کے ہاتھ منہ کالے کر کے اسے صلیب پر لٹکا یا ہوا ہے۔درباریوں نے بعد میں اُسے بڑی ملامت کی اور کہا تو بڑا بے حیا ہے۔اُس دن تو بینگن کی اتنی تعریف کر رہا تھا اور آج تو نے اس کی مذمت شروع کر دی۔وہ کہنے لگا میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں۔اسی طرح ہم بھی خدا کے نوکر ہیں مولویوں کے نہیں۔اگر خدا کسی وجہ سے ہمارا ساتھ دینے لگتا ت ہے تو چاہے وہ کتنی چھوٹی وجہ ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوگی کہ وہ چھوٹی وجہ ہے۔اگر ایک چھوٹی نی وجہ سے ہی خدا ہمارے ساتھ ہو گیا ہے اور اس کی تائید ہمارے شامل حال ہوگئی ہے تو ہمیں اس وجہ کے چھوٹا ہونے کی کوئی پروا نہیں ہوگی کیونکہ ہمارا اصل مقصود خدا ہے اور ہم خدا کے نوکر ہیں مولویوں کے نہیں۔جب خدا ہمارے ساتھ ہو گیا تو ہماری غرض پوری ہوگئی۔اب ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا ہمیں اچھا کہتی ہے یا بُرا کہتی ہے۔اگر خدا ہمارے ساتھ ہے تو دنیا کی مخالفت ہماری نگاہ میں الفضل 8 جون 1957 ء ) ایک ذرہ بھر بھی حقیقت نہیں رکھتی۔1 : تذکرہ صفحہ 604۔ایڈیشن چہارم 2004 ء