خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 130

خطبات محمود جلد نمبر 38 عمر کا تقاضا بھی ہے۔ 130 1957ء قرآن کریم کا اردو ترجمہ جو ابھی جاری ہے اور جس کی نظر ثانی ہو چکی تھی اس پر اب نظر ثالث ہو رہی ہے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ مولوی محمد یعقوب صاحب جنہیں میں ترجمہ ڈکٹیٹ کراتا ہوں اور مولوی نور الحق صاحب مجھ سے نظر ثالث کے بعد نظرِ رابع بھی کروائیں گے اور نظرِ رابع کے بعد کہیں گے نظر خامس کر دیجیے۔ پھر نظر خامس ہو جائے گی اور جلسہ سالانہ کے دن قریب آجائیں گے تو کہیں گے نظر سادس بھی کر دیجیے۔ اس کے بعد نظر سابع ہوگی اور مجھے ڈر ہے کہ اس طرح اگلا سال بھی کہیں گزر نہ جائے۔ کیونکہ نظر ثانی کے وقت ہم ایک ایک دن میں دو دو سیپارے کر لیتے تھے۔ لیکن اب دو دو دن میں ایک سیپارہ ختم ہوتا ہے اور اسی طرح نظریں بڑھتی گئیں تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ میں نے انہیں کہا ہے اور تاکید کی ہے کہ وہ کام جلدی ختم کرنے دیں۔ 1938 ء میں میں نے کسی قدر ترجمہ کر لیا تھا۔ پھر جابہ اور مری میں پچھلے سال باقی ترجمہ ختم کیا اور اس سال رمضان میں اس کی نظر ثانی شروع کی تھی جو یہیں ختم کر لی تھی ۔ اُن دنوں بعض دفعہ دو دو سیپارے ایک دن میں ہو جاتے تھے۔ اگر نظرِ ثالث بھی اسی اختصار سے ہوتی تو سات دنوں میں چودہ سیپارے ختم ہو جانے چاہیں تھے لیکن ہوئے صرف تین چار سیپارے ہیں۔ گو مولوی محمد یعقوب صاحب تھے چار ہیں۔ مولوی محمد اور مولوی نور الحق صاحب نے مجھے تسلی دلائی تھی کہ شروع کے پارے نظر ثانی کے وقت بھی مشکل سے ہوئے تھے بعد کے سیپارے جلدی ہو گئے تھے اور یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ لیکن کہتے ہیں کہ جب تک پیالہ ہونٹوں کو نہ لگ جائے اور پانی پی نہ لیا جائے انسان کو تسلی نہیں ہوتی ۔ مجھے بھی تسلی نہیں ہوتی ۔ ہاں ! اگر اگلے سیپارے عملاً جلدی ہو جائیں تو دیکھیں گے۔ فی الحال تو یہ صرف وعدہ ہی وعدہ ہے۔ بہر حال ہماری یہ کوشش ہے کہ ستمبر یا اکتوبر میں سارا قرآن کریم چھپ جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ بیچ میں آرام کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ کیونکہ لمبا کام کرنا پڑتا ہے۔ جن دنوں میں ہم نظر ثانی کر رہے تھے اُن دنوں بعض اوقات ہمیں آٹھ آٹھ ، نو نو گھنٹے متواتر کام کرنا پڑا اور اُن دنوں دو دوسیپارے بھی ہو جاتے تھے لیکن عام دنوں میں ایک ایک سیپارہ یا ڈیڑھ ڈیڑھ سیپارہ ہی ہوتا تھا اور اُن دنوں میں بھی ہم چار چار گھنٹے روز کام کرتے تھے۔ اب بھی تین تین گھنٹے روزانہ کام ہوتا رہا ہے۔