خطبات محمود (جلد 38) — Page 131
$1957 131 خطبات محمود جلد نمبر 38 بیماری لبی ہو جانے کی وجہ سے قدرتا کوفت زیادہ ہوتی ہے۔پہلے اتنی کوفت محسوس نہیں ہوتی تھی۔مگر آب شدید بیماری کو دوسال کے قریب عرصہ ہو چکا ہے اور چونکہ بیماری زیادہ عرصہ جسم پر طاری رہی ہے اس لیے جلد ہی کوفت کی وجہ سے جسم گر جاتا ہے۔بہر حال ہمارا ارادہ یہ ہے کہ چاہے کوفت ہی ہو کام ختم ہو جائے۔اب بھی بعض اوقات کام کرتے کرتے بیماری کی وجہ سے مدہوش ہو جاتا ہوں۔اور بعض دفعہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں نیچے گر جاؤں گا۔سامنے سے مولوی محمد یعقوب صاحب کہہ دیتے ہیں کہ حضور ! کام بہت زیادہ ہو گیا ہے اب بس کر دیں۔مگر میں اس بیہوشی میں بھی کہتا ہوں کہ کام کرتے چلے جاؤ چاہے رات کے بارہ بج جائیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی۔گو ہم کام کریں گے۔باقی چھاپنے والوں کی بات ہے۔یہ لوگ بھی وقت پر چھاپ دیں۔اگر انہوں نے اس ترجمہ کو وقت پر نہ چھاپا تو خدا تعالیٰ کے سامنے وہ ذمہ دار ہوں گے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ہم تو اِنشَاءَ اللهُ واپس جاتے ہی کام میں تیزی پیدا کر دیں گے اور اگلے ہفتہ سے زیادہ سے زیادہ کام انہیں بھیجنا شروع کر دیں گے۔باقی چھاپنا ان کا کام ہے۔اگر یہ لوگ اس ترجمہ کو وقت پر شائع کر دیں تو اُمید ہے تمبر اکتوبر میں کام ختم ہو جائے گا۔شمس صاحب نے بھی جو جلد قرآن کریم کے حجم کا اندازہ بتانے کے لیے مجھے دکھائی ہے وہ مجھے بہت بوجھل نظر آئی ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کے پاس ایکھینچ نہیں اور ہلکا کاغذ فارن(FOREIGN) سے ملتا ہے اور گورنمنٹ اسے امپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اس لیے میں نے کہا ہے چاہے جلد بوجھل ہی ہے لیکن اس سال ترجمہ چھپ جائے تا لوگ اس سے فائدہ اٹھا نا شروع کر دیں ورنہ دل میں یہ بوجھ رہتا ہے کہ ابھی کام ختم نہیں ہوا۔خدا کی قدرت ہے کہ پہلے سیپارے ترجمہ کے لحاظ سے بڑے مشکل ہیں اور یہی میں نے پیر منظور محمد صاحب مرحوم کے کہنے پر 1938ء میں کر لیے تھے۔انہوں نے جب قاعدہ میسر نا القرآن مجھے ہبہ کیا اور اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ اگر میں اردو میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی کر دوں تو وہ اسے یسرنا القرآن کی طرز پر شائع کر دیں گے۔چنانچہ میں نے اُس وقت کام کرنا شروع کر دیا اور سات آٹھ سیپارے مکمل کر لیے۔اس کے بعد یہ کام رک گیا۔پچھلے سال جابہ اور مری میں میں نے اس کام کو ختم کیا۔لیکن دس بارہ ماہ تک اس پر نظر ثانی نہ ہو سکی۔گزشتہ رمضان میں اس پر نظر ثانی ہوئی اور اب نظر ثالث ہو رہی ہے۔اگر یہ ترجمہ چھپ جائے تو جس قسم کا یہ ترجمہ ہے یہ بات سمجھ میں آتی