خطبات محمود (جلد 38) — Page 124
خطبات محمود جلد نمبر 38 ہیں اور سال میں ہم نے سارا ہیمبرگ بنالیا ہے۔ 124 1957ء ہماری جماعت کے ایک نوجوان جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے اُن سے اس بات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بھی میری اس بات کی تائید کی اور کہاں میں بھی وہاں سے آیا ہوں۔ وہاں یہی حال تھا۔ میں اپنے مکان کی کھڑکی میں سے دیکھتا تو ایک مکان گرا ہوا ہوتا تھا۔ مگر دوسرے دن دیکھتا تو وہ مکان تعمیر ہو چکا ہوتا۔ سارے کے سارے لوگ آپ ہی آ آب جاتے تھے اور مفت مکان بنا دیتے تھے اور کہتے تھے ہمارا شہر انگریزوں نے تو ڑا ہے اب ہم اسے خود تعمیر کریں گے۔ میں وہاں ایک یونیورسٹی کے ہسپتال میں اپنے معائنہ کے لیے گیا تو میں نے دیکھا کہ یونیورسٹی ٹوٹی ہوئی ہے اور جو چھتیں بنی ہوئی ہیں وہ تازہ تعمیر کردہ ہیں اور اُن سے تازہ پینٹ کی بُو آ رہی ہے۔ میں نے ڈاکٹروں میں سے ایک سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ہماری یونیورسٹی بمباری کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔ جو حصہ بنا ہوا آپ دیکھ رہے ہیں یہ ہم نے اور طالبعلموں نے مل کر بنایا ہے۔ میں نے کہا ہمارے ملک میں تو کوئی ڈاکٹر ایسے کام کو ہاتھ نہ لگائے ۔ اُس نے کہا ہم تو پروا نہیں کرتے۔ ہماری یہ یونیورسٹی بہت مشہور تھی۔ بمباری کی وجہ سے اس میں بڑے بڑے غار بن گئے تھے۔ چنانچہ اُس نے مجھے ایک کمرہ دکھایا اور ایک غار کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اتنے بڑے بڑے غار تھے۔ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم خود کام کریں گے اور یونیورسٹی کی عمارت بنائیں گے۔ چنانچہ سارے ڈاکٹر اور طالبعلم کام میں لگ گئے اور یہ عمارت بنالی۔ میں نے کہا واقعی یہ تمہاری ہی ہمت ہے۔ ہمارے ملک میں تو استاد ایک باورچی خانہ بنانے کو بھی تیار نہیں ۔ اگر انہیں ایسا کام کرنے کے لیے کہا جائے تو وہ کہیں گے کہ کیا ہم اتنے ہی ذلیل ہیں کہ یہ کام کریں؟ تو یاد رکھو! باہر سے لوگ یہاں آ رہے۔ ہیں ان کو مرتد کر کے نہ بھیجنا۔ صفائی رکھو۔ ایک امریکن آدمی ایک دفعہ یہاں آیا تھا۔ میں نے پہلے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ جب وہ واپس گیا تو اُس نے ہمارے مبلغ کو بتایا کہ ربوہ بڑا اچھا شہر ہے مگر ایک نقص میں نے یہ دیکھا ہے کہ وہاں افسردگی سی چھائی ہوئی ہے۔ تمہیں چاہیے تھا کہ وہاں درخت لگاتے ، روشیں 1 بناتے ، پختہ سڑکیں بناتے۔ یوں تو بڑی ہمت کی ہے کہ غیر آباد پہاڑوں کو آباد کر لیا ہے لیکن شہر میں جانے سے یوں معلوم ہوتا ہے ہے کہ اس پر افسردگی سی طاری ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جلسہ سالانہ کے بعد میجر مرزا امیر احمد صاحب