خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 112

خطبات محمود جلد نمبر 38 112 $1957 ہماری جماعت کی حالت اُس بڑھیا عورت کی سی ہے جو سوت کی دوائیاں لے کر حضرت یوسف کو خریدنے کے لیے آئی تھی۔قصہ مشہور ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام بازار میں فروخت ہونے کے لیے آئے تو ایک بڑھیا بھی آئی اور اس نے کہا میں نے بھی بولی دینی ہے۔کسی نے کہا بی بی! بولی دینے کے لیے تیرے پاس روپیہ بھی ہے؟ اُس نے کہا روپیہ تو میرے پاس موجود نہیں۔یہ دوسوت کی آٹیاں ہیں۔اس نے کہا جب تیرے پاس روپیہ ہی نہیں ہے تو تو بولی دینے کے لیے کیوں آئی ہے؟ اس نے جواب دیا میں نے یہ سمجھا تھا کہ شاید اور کوئی بولی دینے والا نہ ہو اور مجھے ان دوسوت کی اٹیوں کے بدلہ میں ہی یوسف مل جائے۔تمہاری مثال بھی اس عورت کی سی ہے۔تم نے بھی اپنی سوت کی اٹیاں پیش کر دی ہیں۔مگر یوسف کی خریدار بڑھیا عورت تو اپنی دوائیاں لے کر واپس چلی گئی تھی۔اسے یوسف نہیں ملا تھا۔مگر خدا نے تمہاری آئٹیوں کو قبول کر لیا ہے اور تم کو یوسف قرآن ملی گیا ہے۔گو تمہارے چندے اور تمہاری قربانیاں یوسف کو خرید نے والی بڑھیا کی طرح ہی تھیں مگر خدا تعالیٰ نے تمہاری اٹیوں کو قبول کر لیا اور قرآن کریم کا یوسف تمہیں مل گیا لیکن اس بڑھیا کی آٹیوں کو ول نہ کیا گیا اور یوسف بادشاہ کے ایک وزیر کے گھر میں پہنچ گئے۔مگر تمہارا یوسف تمہیں ایسا ملا ہے کہ مصر کے ایک شدید مخالف اخبار نے بھی لکھا کہ گزشتہ تیرہ سو سال سے مسلمان بادشاہ بھی موجود تھے، سلامی حکومتیں بھی تھیں مگر ان میں سے کسی کو اسلام پھیلانے کی وہ توفیق نہ ملی جو اس غریب جماعت کو ملی ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ورنہ من آنم کہ من دانم “ ہم اپنی حقیقت اور اپنی کمزوریوں کو خوب جانتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے کہ پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار 2 ہم ایک ذلیل مٹی کی طرح ہوتے یا کوڑا کرکٹ کی طرح ہوتے جس کو اُٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس مٹی اور کوڑا کرکٹ کو قبول کر لیا اور اسلام کی خدمت کی ذمہ داری اس غریب جماعت پر ڈال دی۔اور پھر اس کو اس کام کی توفیق دی اور اسے کامیاب بھی کر دیا۔اور پھر بڑے بڑے شدید دشمنوں سے یہ اقرار بھی کرالیا کہ در حقیقت اسلام کی خدمت کرنے والے یہی لوگ ہیں۔مجھے ایک اور بات بھی یاد آ گئی کہ امریکہ سے وہ کتاب بھی آگئی ہے جس کا ذکر