خطبات محمود (جلد 38) — Page 113
$1957 113 خطبات محمود جلد نمبر 38 چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی جلسہ سالانہ کی تقریر میں کیا تھا کہ ایک اٹالین عورت نے اسلام کے متعلق ایک ایسی کتاب لکھی ہے کہ کسی مسلمان نے بھی ویسی کتاب نہیں لکھی۔اب اس کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا ہے اور وہ چھپ کر آٹھ دس دن ہوئے یہاں پہنچ گیا ہے۔ابھی اس کی ایک ہی جلد آئی ہے۔اگر وہ لائبریریوں میں رکھی جائے اور انگریزی دان لوگ اسے پڑھیں تو ہوسکتا ہے کہ اور کتابیں بھی منگوالی جائیں اور پھر پاکستان میں اس کی اشاعت کی صورت نکل آئے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: نماز کے بعد میں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔(1) منظور احمد صاحب پٹواری مال لا ہور تپ دق سے ہسپتال میں فوت ہو گئے ہیں اور ہسپتال والوں نے انہیں لاوارث سمجھ کر نہ تو ان کا جنازہ پڑھا اور نہ ہی ان کی قبر بنائی۔پیدائشی احمدی تھے۔(2) عبدالحفیظ خان صاحب ابن عبد الغفور خاں صاحب پشاور۔تپ دق سے ڈاڈر سینی ٹوریم میں بیمار تھے۔وہیں فوت ہوئے۔لکھنے والا لکھتا ہے کہ ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ اُن کا جنازہ کسی نے پڑھا بھی ہے یا نہیں۔(3) عبدالغفور خاں صاحب ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کراچی فوت ہو گئے ہیں۔دیر سے بیمار تھے۔رمضان المبارک کی وجہ سے جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہو سکے۔(4) والدہ صاحبہ سلطان محمود صاحب انور کھاریاں ضلع گجرات فوت ہوگئی ہیں بارش کی وجہ سے زیادہ احباب جنازہ میں شریک نہ ہو سکے۔میں ان چاروں کا جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد پڑھاؤں گا۔سب دوست میرے ساتھ الفضل 27 اپریل 1957 ء ) نماز جنازہ میں شریک ہوں“۔1 : يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ تَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ (المائدة: 55) 2 : در مشین اردو۔زیر عنوان "مناجات اور تبلیغ حق