خطبات محمود (جلد 38) — Page 95
$1957 95 خطبات محمود جلد نمبر 38 تو بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہاں؟ آپ لشکر سے ذرا ایک طرف ہٹ کر کھڑے تھے۔اس صحابی نے اس طرف اشارہ کر کے کہا آپ اُدھر کھڑے ہیں۔اس پر وہ عورت دوڑتی ہوئی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی اور محبت کے جوش میں آپ کے پاؤں میں گر گئی اور آپ کا دامن پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگا کر کہنے لگی کہ يَا رَسُولَ اللہ ! آپ بھی کیا کرتے ہیں؟ یہ فقرہ تو تھا تو مہمل اور بے معنی لیکن عورتیں غم کے موقع پر اس قسم کے فقرے بول لیا کرتی ہیں۔اس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی وفات کی خبر جو مشہور ہوئی ہے یہ گویا آپ نے ہی مشہور کرائی تھی حالانکہ یہ حادثہ اتفاقی طور پر پیش آیا تھا۔لیکن وہ اپنے غم میں سب کچھ بھول گئی اور کہنے لگی يَارَسُولَ الله !۔بھی کیا کرتے ہیں؟ اب دیکھو! خطرہ کی خبر سن کر مسلمانوں کا دل کتنا بڑھ گیا لیکن جو لوگ مومن نہیں تھے ان کا دل اتنا گھٹا کہ فتح پانے کے بعد بھی مکہ پہنچ گئے۔یہی کیفیت ان لوگوں کی ہے۔ان کے قول کے مطابق چھا پا تور بوہ پر مارا گیا ہے اور گھبرا یہ رہے ہیں اور پھر اس گھبراہٹ کو ربوہ والوں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ روزانہ اطمینان سے درس سنتے ہیں اور اب ہزاروں کی تعداد میں جمعہ میں بھی بیٹھے ہیں۔مگر آپ لوگوں کو تو ربوہ میں رہنے کے باوجود اس خبر کا علم تک نہیں۔اور ان لوگوں کو لاہور میں اس بات کا علم ہو گیا کہ ربوہ والے گھبرا رہے ہیں۔اور میں یہاں مسجد میں خطبہ دے رہا ہوں اور وہ خبر شائع کرتے ہیں کہ احمدیوں کا خلیفہ پریشانی کی وجہ سے جابہ اور ر بوہ کے درمیان چکر کاٹ کر دل بہلا رہا ہے۔حالانکہ حالت یہ ہے کہ میں طبیعت کی خرابی کے باوجود آج کل قرآن کریم کے ترجمہ کی اصلاح کر رہا ہوں۔پھر دوسرے کاموں کے علاوہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے کوفت ہوتی ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ میں کسی جگہ جا کر چند دن آرام کروں لیکن میں آرام نہیں کرتا تا کہ رمضان کے دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔مگر اس اخبار کا معتبر راوی ربوہ سے لکھتا ہے کہ خلیفہ صاحب بھاگ کر جابہ چلے گئے ہیں۔تم جو یہاں بیٹھے ہو معتبر راوی نہیں۔لیکن اس اخبار کا نامہ نگار معتبر راوی ہے۔ان کی مثال بالکل اُس شخص کی سی ہے جو کسی عدالت میں چپڑاسی تھا۔ایک دن وہ مجسٹریٹ کے پاس گیا اور کہنے لگا حضور ! مجھے دس دن کی رُخصت عطا کی جائے۔مجسٹریٹ کہنے لگا آجکل