خطبات محمود (جلد 38) — Page 92
$1957 92 خطبات محمود جلد نمبر 38 سمجھنا چاہیے کہ یہ اگر ہماری ماں ہے اور ڈنڈا لے کر آئی ہے تو ہمارے دشمنوں کے لیے لے کر آئی ہے ہمارے لیے نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ کچھ دنوں سے ایسے کمزور ایمان لوگ اول تو اپنی عادت مستمرہ کے مطابق ہمارے خلاف جھوٹ بناتے ہیں اور پھر آپ ہی یہ نتیجہ بھی نکال لیتے ہیں کہ اگر کوئی نا پسندیدہ بات ہوئی ہو تو اس سے ڈر بھی ہونا چاہیے۔چنانچہ پھر وہ ڈر اور خوف بھی ہماری طرف منسوب کر دیتے ہیں۔مثلاً پچھلے دنوں ایک اخبار نے لکھا کہ ربوہ کے خزانہ پر پولیس نے چھاپا مارا ہے جس سے وہاں کے ذمہ دار قادیانیوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور ہر فر گھبرایا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اب تم سارے جانتے ہو کہ یہ اس نے صریح جھوٹ بولا ہے۔نہ یہاں کوئی چھاپا مارا گیا ہے اور نہ کوئی ڈر رہا ہے۔تم آرام سے آتے ہو۔روزانہ درس سنتے ہو اور اطمینان سے واپس چلے جاتے ہو۔مگر وہ لکھتا ہے کہ ربوہ کے لوگوں ن میں بڑی تشویش پھیلی ہوئی ہے۔اور پھر لکھتا ہے کہ ان کا خلیفہ اسی پریشانی کی وجہ سے جابہ اور ربوہ کے درمیان چکر کاٹ کر دل بہلا رہا ہے۔اب بتاؤ میں جابہ میں ہوں یا تمہارے اندر کھڑا ہوں۔غرض وہ اپنی بات کو پکا کرنے کے لیے اپنے دل کا ڈر ہماری طرف منسوب کر رہے ہیں۔حالانکہ اول تو یہ جھوٹ ہے کہ خزانہ پر کوئی چھاپا مارا گیا ہے۔لیکن فرض کرو مارا گیا ہو تو جب ہم نے کوئی قانون شکنی ہی نہیں کی تو ہمیں ڈر کس بات کا ہو سکتا ہے۔اگر کوئی ناجائز طور پر چھاپا مارنے والا ہے تو وہ گورنمنٹ کے ہاتھوں خود پکڑا جائے گا ہمیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ڈر تو کمزور مومنوں اور یا پھر بے ایمان لوگوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو! جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ اُحد میں تشریف لے گئے تو ایک موقع پر مسلمانوں کی بعض غلطیوں کی وجہ سے دشمن کو اس طرح ضرب لگانے کا موقع مل گیا کہ رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر اُن صحابہ کی لاشوں پر جا گرے جو آپ کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے اور پھر کچھ اور لاشیں آپ کے اوپر بھی آگریں۔صحابہ نے اُس وقت گھبراہٹ میں یہ سمجھا کہ شاید آپ بھی شہید ہو گئے ہیں۔چنانچہ یہ خبر فوراً مشہور ہو گئی۔جب یہ خبر اپنوں اور بیگانوں میں پھیلی تو ابوسفیان نے بڑی خوشی منائی کہ چلو ! ہمارا یہ ایک ہی دشمن تھا جو مارا گیا ہے اور اس نے ایک بلند جگہ پر رے ہو کر کہا کہ کہاں ہے محمد ؟ اُس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے ان کو مار ڈالا ہے۔اُس وقت تک