خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 245

$1957 245 خطبات محمود جلد نمبر 38 پورا کرتا ہے۔لیکن کوشش اور جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے۔تم دیکھ لو! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جلسہ سالانہ پر آنے والے صرف چند آدمی ہوا کرتے تھے مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنا بڑا فضل کیا اور اس نے تمہاری تعداد کو کس قدر بڑھایا۔اس وقت جماعت کی تعداد پندرہ سولہ لاکھ کی ہے حالانکہ ایک زمانہ وہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال کے جلسہ پر صرف سات سو آدمی آیا تھا اور آپ اُن کو دیکھ کر بڑے خوش ہوئے تھے۔مگر اس وقت غالباً خطبہ میں ہی اُس سے زیادہ لوگ بیٹھے ہوں گے۔آپ سیر کے لیے باہر تشریف لے گئے تو مہمان بھی آپ کے ساتھ چلے گئے۔راستہ میں بھیڑ کی وجہ سے آپ کو ٹھوکر لگتی تو پاؤں سے جُوتی اُتر جاتی۔لوگ آگے بڑھتے اور آپ کو جوتی پہنا دیتے۔جب بار بار جوتی اُتری اور آپ کو دوبارہ پہننے کے لیے کھڑا ہونا پڑا تو آپ نے فرمایا اب واپس چلنا چاہیے۔معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری سیر کا زمانہ ختم ہو گیا ہے۔لیکن اب خدا تعالیٰ نے سات سو کے مقابلہ میں تمہاری تعداد کو کس قدر بڑھا دیا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے آخری جلسہ پر کوئی گیارہ بارہ سو آدمی آئے تھے لیکن ہمارے پچھلے جلسہ ر ساٹھ ہزار آدمی آیا تھا جو حضرت خلیفہ امسیح الاول کے آخری جلسہ پر آنے والوں سے قریباً ساٹھ گنا زیادہ تھا اور ہر سال جلسہ پر آنے والوں کی تعداد میں ترقی ہوتی چلی جاتی ہے۔تمہیں اس فضل کی قدر کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لبِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ - 1 اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر زیادہ سے زیادہ فضل نازل کرے گا۔اس وقت ہماری جماعت کی تعداد پندرہ سولہ لاکھ ہے لیکن ہمارا جی چاہتا ہے کہ یہ تعداد دو اڑھائی ارب تک پہنچ جائے اور کوئی جماعت اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے۔یہ مقام ابھی بہت دور ہے اور اس کو نز دیک لانا خدا تعالیٰ کا کام ہے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس کے لیے کوشش کریں۔ہم نے یورپ میں بھی کوشش کی لیکن ابھی وہاں ہماری تعداد میں کوئی نمایاں زیادتی نہیں ہوئی۔فلپائن میں خدا تعالیٰ نے خود جماعت بنائی ہے لیکن ابھی تک وہاں بھی دو اڑھائی سو افراد ہی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔مغربی افریقہ میں بھی کوشش جاری ہے۔گو اس وقت وہاں جماعت کی ترقی کی وہ رفتار نہیں جو پہلے تھی مگر پھر بھی جماعت کافی زیادہ ہے۔پہلے تو چند دنوں میں ہی جماعت کی تعداد