خطبات محمود (جلد 38) — Page 212
212 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 تو تاریخوں میں ایاز کے اس قسم کے صرف چند واقعات آتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دیکھیں تو وہ اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں نظر نہیں آسکتی۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ مدینہ میں رات کو شور کی آواز سنائی دی۔اُن دنوں مشہور تھا کہ قیصر اپنی فوجوں سمیت مدینہ پر حملہ کرنے والا ہے۔قیصر کی بادشاہت اُن دنوں ایسی ہی تھی جیسے آجکل روس اور امریکہ کی ہے۔صحابہ دوڑ کے مسجد میں جمع ہو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پتالگا کہ کوئی سوار اس طرف سے آ رہا ہے جدھر سے شور کی آواز آئی تھی صحابہ باہر گئے تو دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار تشریف لا رہے ہیں 5۔آپ ایک مخلص آدمی کا گھوڑالے گئے تھے۔جب آپ واپس آئے تو فرمایا تم لوگ یہاں کیوں جمع ہو؟ صحابہ کہنے لگے يَارَسُولَ الله ! ہم نے کھڑ کے کی آواز سنی تھی۔اس پر کچھ لوگ تو اپنے گھروں میں چلے گئے اور کچھ مسجد میں جمع ہو گئے تا کہ اکٹھے ہو کر دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ مسجد میں جمع ہوئے ہیں انہوں نے درست کیا۔ہمیشہ یہی طریق ہونا چاہیے کہ اگر کبھی خطرہ کا وقت ہو تو مسجد میں جمع ہو جایا کرو اور وہاں اکٹھے ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی تدبیر کیا کرو۔اب دیکھو! کہ سارے مسلمان مسجد میں اکٹھے ہو کر انتظار کر رہے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رات کو گئے اور واپس آئے تو فرمایا میں خبر لینے گیا تھا کہ کہیں قیصر کا لشکر تو نہیں ا رہا۔غرض آدھی رات کے وقت ہیں ہزار آدمی کے مقابلہ کے لیے اکیلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔محض اس لیے کہ اُن کی امت پر کوئی اچانک حملہ نہ کر دے۔بھلا اس کے مقابلہ میں ایاز کی جو قربانی تھی وہ ہے ہی کیا چیز ! اسی طرح غزوہ احزاب کے موقع پر لوگوں نے کہا کہ يَا رَسُولَ الله ! یہودیوں نے کافروں سے معاہدہ کر کے ارادہ کر لیا ہے کہ مسلمان عورتوں پر حملہ کریں۔آپ نے فرمایا ان عورتوں کو فور أفلاں جگہ پر جمع کر دو۔اُس وقت آپ کا لشکر گل بارہ سو کا تھا۔مگر آپ نے فرمایا سات سو آدمی میرے پاس رہنے دو اور پانچ سو آدمی عورتوں کی حفاظت کے لیے لے جاؤ۔پھر اللہ تعالیٰ نے پنے احسان کے ساتھ فتح دے دی۔مگر اُس وقت جو آپ نے مسلمانوں کے لیے قربانی کی وہ بہت بڑی تھی کہ پانچ سو کا لشکر عورتوں کی حفاظت کے لیے بھیج دیا اور صرف سات سو کا لشکر اپنے پاس رہنے دیا۔صحابہ نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! یہ لشکر تو بہت تھوڑا ہے۔آپ نے فرمایا مسلمان دلیر ہوتے ہیں۔