خطبات محمود (جلد 38) — Page 201
$1957 201 خطبات محمود جلد نمبر 38 لے لیتا ہے اور پھر اوپر کو اٹھتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ایسے انسان کو بھی مار کر آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔گویا اس پر وہی مثال صادق آتی ہے جو انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف بیٹھ گیا۔6 کیونکہ جب خدا تعالیٰ کسی انسان کو عرش پر لے جائے گا تو وہ اُس کے داہنی طرف ہی بیٹھے گا مگر انجیل میں تو صرف حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے اور خدا تعالیٰ کی داہنی طرف بیٹھ گئے۔لیکن اسلام کہتا ہے کہ ہر مومن جو خدا تعالیٰ کے قریب ہو گا وہ اُس کی دائیں جانب عرش پر جا بیٹھے گا۔یا یوں کہو کہ وہ اُس کی گود میں بیٹھ جائے گا۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کی گود میں ہو ظاہر ہے کہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔نقصان اُسی کو پہنچایا جا سکتا ہے جو خدا تعالیٰ سے دور ہو۔اگر کوئی دشمن اُس شخص پر حملہ کرنے کی کوشش کرے جو خدا تعالی کی گود میں ہے تو دوسرے لفظوں میں وہ خدا تعالیٰ پر حملہ کرے گا لیکن خدا تعالیٰ پر کسی صورت میں بھی حملہ نہیں کیا جاسکتا۔پس جو خدا تعالیٰ کی گود میں ہو اُسے نقصان پہنچانے کی خواہ کوئی لاکھ کوشش کرے وہ ناکام رہے گا اور ذلیل اور رسوا ہوگا۔پس اس آیت کے ذریعہ ہر مومن کو خوشخبری دی گئی ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کے قرب کا انتہائی مقام حاصل ہو سکتا ہے۔چنانچہ یہی آیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی الہاما نازل ہوئی ہے 7 اور پھر آپ کو یہ بھی الہام ہوا ہے کہ سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكَّلَ - 8 یعنی میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔متوکل کے معنے ہوتے ہیں وہ شخص جو اپنا سارا کام خدا تعالیٰ کے سپر د کر دے۔اور دَنَا فَتَدَلّی میں بھی ایسا شخص اُس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں وہ ہر قسم کے حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اُسے اپنی گود میں اٹھا لیتا ہے۔گویا اس آیت میں حقیقی مقام تو کل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن یہ مقام عام تو کل کے مقام سے بہت بلند ہے۔اس لیے کہ عا متور کل تو خود کہتا ہے کہ میں اپنے سارے کام خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔مگر دَنَا فَتَدَٹی میں جس مقام تو کل کا ذکر ہے اُس کے متعلق خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اس کے سارے کام اپنے ذمہ لے لیتا ہوں اور ظاہر ہے کہ ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔اچھا متور کل بہر حال وہی ہوگا جس کے متعلق خدا تعالیٰ خود کہے کہ میں نے اس کے سارے کام اپنے ذمہ لے لیے ہیں کیونکہ اس کے