خطبات محمود (جلد 38) — Page 200
$1957 200 خطبات محمود جلد نمبر 38 کے لیے نیچے کی طرف جھکا۔اسی مضمون کو ایک اور آیت بھی واضح کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ فَعُهُ - 4 یعنی جب کوئی شخص اعمال صالحہ بجا لاتا ہے تو وہ اس کو اونچا کر دیتے ہیں۔یعنی مومن عمل صالحہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ عرش سے اتر کر اُس کی طرف آ جاتا ہے۔جیسے رمضان المبارک کے ذکر میں قرآن کریم کے ایک دوسرے مقام میں آتا ہے کہ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَاِنّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ -5 یعنی جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو تو انہیں کہہ دے کہ میں اُن کے قریب ہوں اور میں ہر پکارنے والے کی پکار کوسنتا ہوں۔یہ وہی تدلی ہے جس کا دَنَا فَتَدَتی ، میں ذکر آتا ہے۔گویا خدا تعالیٰ تو عرش پر بیٹھا ہے۔لیکن جب کوئی انسان اُس سے دلو“ کرتا ہے اور اعمال صالحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اور اُس سے دعائیں کرتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کے نزدیک آ جاتا ہے اور اس طرح وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی رنگ میں شاگرد ہو جاتا ہے۔66 غرض دَنَا فَتَدَلی “ نے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ایک سچے مسلمان کے لیے یہ راستہ کھلا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر خدا تعالیٰ کے قریب ہو اور پھر خدا تعالیٰ بھی اُس کے نزدیک آ جائے۔گویا جس طرح کنویں پر کھڑے ہو کر جب کوئی شخص ڈول لڑکا تا ہے تو وہ نیچے آ جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے آپ کو انسان کے قریبی کر دیتا ہے۔مگر جب کوئی ڈول کنویں میں لڑکا تا ہے تو ڈول صرف پانی کے قریب ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ پانی سے بھر بھی جاتا ہے۔اسی طرح انسان صرف خدا تعالیٰ کے قریب ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ خدائی نور سے بھی بھر جاتا ہے۔آخر جب کوئی شخص ڈول کو کنویں میں لٹکا تا ہے تو اُس کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ وہ اُسے کنویں سے خالی نکال لے۔بلکہ اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس میں پانی بھر جائے۔اسی طرح خدا تعالیٰ جب اپنے آپ کو کسی انسان کے قریب کر دیتا ہے تو وہ صرف قریب ہی نہیں ہوتا بلکہ اُسے اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔پھر جس طرح ڈول نیچے جا کر پانی اپنے اندر