خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 155

$1957 155 خطبات محمود جلد نمبر 38 کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے مرنے کے بعد تمہارے بیوی بچے دوسروں کے آگے دستِ سوال دراز کرتے پھریں گے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! پھر میں دو تہائی کی وصیت کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا یہ بھی زیادہ ہے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! پھر مجھے نصف مال صدقہ کرنے کی اجازت دی جائے۔آپ نے فرمایا یہ بھی زیادہ ہے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! پھر میں کتنے حصہ کی وصیت کروں؟ آپ نے فرمایا تم ایک تہائی کی وصیت کرو اور دو تہائی اپنے رشتہ داروں کے لیے رہنے دو۔2 غرض صدقہ و خیرات جو ایک بہت بڑی نیکی ہے اس میں بھی اسلام نے میانہ روی سے کام خص لینے کی ہدایت فرمائی ہے اور اپنا سارا مال خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ہاں! اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ہبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔اس لیے کہ ہبہ کی تکلیف خود اُسے بھی پہنچتی ہے۔مثلاً ایک می جس کی سالانہ آمد ایک لاکھ روپیہ ہے وہ اگر اس آمد کو ہبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔اس لیے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتا ہے۔وہ ہبہ سے پہلے اگر آٹھ ہزار یا چار ہزار یا تین ہزار روپیہ ماہوار میں گزارہ کر رہا تھا تو ہبہ کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کو بھی اس آمد سے محروم کر لیا۔پس ہبہ ایک علیحدہ چیز ہے اور اسلام نے اسے جائز رکھا ہے۔کیونکہ ہبہ میں انسان اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کو ہی اپنی جائیداد سے محروم نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر لیتا ہے۔اور اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے قربانی کرنے کے لیے تیار ہو تو شریعت اس کے جذبہ قربانی میں روک نہیں بنتی۔لیکن اگر وہ اپنی زندگی میں تو ایک لاکھ روپیہ سالانہ آمد اپنے نفس پر خرچ کرتارہتا ہے اور مرتے وقت چاہتا ہے کہ اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دے دے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود تو سارے روپیہ سے فائدہ اٹھاتا رہا لیکن جب مرنے لگا تو اس نے چاہا کہ اب اس کے بیوی بچے اور دوسرے رشتہ دار جس طرح چاہیں گزارہ کریں اور ان کے لیے کوئی روپیہ باقی نہ رہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ مرنے والا صرف ایک تہائی تک کی وصیت کرے۔یعنی اگر کسی کی ایک لاکھ روپیہ آمد ہو تو وہ اس کے لیے 1/3 حصہ یعنی تینتیس ہزار کی وصیت کر سکتا ہے۔ہاں! اگر وہ اپنی زندگی میں اسے ہبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔اس لیے کہ اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنے کے لیے تیار ہے۔اور جو شخص خود اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنے کے لیے تیار ہو اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو بھی اسی قسم کے حالات میں سے ا