خطبات محمود (جلد 38) — Page 145
$1957 145 خطبات محمود جلد نمبر 38 کہ مجھے تو یہ حکم ہے کہ میں زنانے میں بھی گھس کر تلاشی لوں۔مگر میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے۔آپ مجھے صرف اپنی دہلیز میں پیر رکھنے دیں۔میں لکھ دوں گا کہ میں نے تلاشی لے لی ہے۔میں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا۔اگر گورنمنٹ نے مجھ سے پوچھا تو میں یہی کہوں گا کہ میری کوئی تلاشی نہیں لی گئی۔اس لیے میرے ساتھ چلو اور تلاشی لو۔پھر میں اُسے اپنے ساتھ لے گیا اور میں نے کہا یہ کا غذات موجو ہیں ان کو دیکھ لو۔وہ بار بار معذرت کرتا اور کہتا کہ حکم پورا ہو گیا۔مگر میں نے کہا اس طرح نہیں پہلے سارے کاغذات دیکھ لو پھر حکم پورا ہو گا۔اُس نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھی اندر بلا لیا تھا۔چنانچہ سارے کاغذات اُسے دکھائے گئے تا کہ گورنمنٹ کا حکم پورا ہو جائے۔اس طرح خدا نے فوراً وہ بات پوری کر دی جو میری زبان سے نکلی تھی۔اب گجا گورنر اور گجا میری ذات۔مگر سات دن کے اندر اندر اُسے گورنری سے رُخصت کر دیا گیا اور اب تک وہ وکالتیں کرتا پھرتا ہے۔پس دعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ سے اپنی مشکلات کا ازالہ چاہو اور یا درکھو کہ خواہ تمہاری مخالفت کرنے والے تمہارے ہمسائے ہوں یا علمائے دین ہوں، یا بڑے بڑے تاجر اور کارخانہ دار ہوں یا قوم کے لیڈر اور رئیس ہوں۔اگر تم اخلاص سے یہ دعا کرو گے کہ اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِی نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ۔تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تم ان کے پاؤں کی خاک بھی ہو گے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُن کی گردنیں مروڑ دے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ صرف كُنُ کہتا ہے اور زمین و آسمان میں تغیر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اگر تم اخلاص سے اُس سے دعا کرتے رہو گے تو خدا تعالیٰ کہے گا کہ اے زمین و آسمان! میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تمہارا ذرہ ذرہ اس شخص کی تائید میں لگ جائے۔بے شک تمہارا مخالف پانی چھان چھان کر پیئے۔رات اور دن پر ہیز کرتا رہے۔خدا تعالیٰ کہے گا کہ اے ہیضہ کے کیڑو! تم اتنی تعداد میں اس شخص کے اندر داخل ہو جاؤ کہ دنیا کی کوئی دوائی اس پر اثر نہ کر سکے۔اے انفلوئنزا کے کیڑو! تم اتنی تعداد میں اس شخص کے اندر داخل ہو جاؤ کہ دنیا کی کوئی دوائی اس پر اثر نہ کر سکے۔اے طاعون کے کیٹر و ! تم اتنی تعداد میں اس شخص کے اندر داخل ہو جاؤ کہ دنیا کی کوئی دوائی اس پر اثر نہ کر سکے اور یہ تڑپ تڑپ کر مر جائے اور میرا مومن بندہ خوش ہو جائے کہ میں نے اس کی تائید کی ہے۔پس میں تمہیں یہی نصیحت کرتا ہوں بیشک مجھے خط لکھ دینا بھی ایک مفید بات ہے۔اس سے