خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 144

$1957 144 خطبات محمود جلد نمبر 38 سے دعا کرتے رہو گے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تمہارے دشمن آسمان سے بھی اونچے چلے جائیں گے تو خدا کے فرشتے ان کی ٹانگیں پکڑ کر اس طرح کھینچیں گے کہ ان کے جسم کا ذرہ ذرہ ہوا میں اُڑ جائے گا۔1953ء میں جب فسادات ہوئے تو جھنگ کا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ گستاخی تو ہوگی مگر میں حکم پہنچانے پر مجبور ہوں۔ہوم سیکرٹری کی طرف سے گورنر صاحب کا آپ کے نام حکم آیا ہے کہ آپ احرار کے متعلق کوئی بات نہ کہیں اور نہ اخبار میں اس کے متعلق کچھ لکھیں کیونکہ اس طرح جوش پیدا ہوتا ہے۔میں نے کہا ظلم احرار کر رہے ہیں یا ہم کر رہے ہیں؟ ہمارے آدمیوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے یا احرار کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے؟ ہمارے آدمی قتل ہورہے ہیں یا احرار کے آدمی قتل ہورہے ہیں؟ اگر ہماری جماعت کے افراد مارے جارہے ہیں۔اگر ہماری جماعت کے افراد کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے اور اگر ہماری جماعت کے افراد کے گھروں کو جلایا جارہا ہے تو چاہیے تھا کہ نوٹس اُن کو دیا جاتا۔مجھے کیوں نوٹس دیا گیا ہے۔وہ کہنے لگا میں تو نوکر ہوں۔گورنر صاحب کا آرڈر آیا تھا جسے میں پہنچانے پر مجبور تھا۔ورنہ میں نے تو پہلے ہی معذرت کر دی ہے کہ مجھے اس گستاخی کی معافی دی جائے۔جب وہ اٹھنے لگا تو میں نے کہا تم نے تو اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔اب مجھے بھی اپنا فرض ادا کرنے دو۔تمہارے گورنر کو یہ دعوی ہے کہ وہ حکومت پاکستان کا نمائندہ ہے اور مجھے یہ دعوی ہے کہ میں رب العرش کا نمائندہ ہوں۔تم اپنے آپ کو اسی لیے محفوظ سمجھتے ہو کہ تم حکومت کی طرف سے آئے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ اگر میری بہتک ہوئی تو گورنمنٹ خود ہتک کرنے والے کو پکڑلے گی۔پس اگر تم کو یہ یقین ہے کہ میری ہتک پر یہ گورنر میری مدد کو پہنچے گا۔تو اگر میں خدا کا گورنر ہوں تو کیا خدا میری مدد کے لیے نہیں آئے گا ؟ اس کے بعد میں نے اسے کہا کہ جاؤ اور اپنے افسروں سے کہہ دو کہ قریب ہی میرا خدا ان کی گردنیں پکڑلے گا اور جس طرح تمہارے گورنر نے اپنا حکم بھیج کر میری گردن مروڑی ہے۔اسی طرح میرا خدا اُس کی گردن مروڑ کر رکھ دے گا۔چنانچہ سات دن کے اندراندر گورنر کو برطرف کر دیا گیا اور اُسے واپس بلالیا گیا۔اس واقعہ کا اتنا اثر تھا کہ بعد میں جب سپرنٹنڈنٹ پولیس میری تلاشی کے لیے آیا (اب چونکہ وہ پنشن لے چکا ہے اس لیے اس بات کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ) تو اُس نے کہا