خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 4

$1957 4 خطبات محمود جلد نمبر 38 کہ وہ قرآن کریم کا قریباً نصف ہو جاتا ہے۔بعض آیتوں کا آپ نے ترجمہ کر دیا ہے اور بعض کا مفہوم بیان کر دیا ہے۔مخالفین نے آپ پر جو اعتراضات کیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ قرآن کریم کی مختلف آیات کو ایک جگہ جوڑ کر مضمون بیان کر دیتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کے احکام متفرق مقامات میں درج ہیں اور اگر ان کو جوڑا نہ جائے تو انہیں سمجھا نہیں جاسکتا۔پرانے لوگ اس بات کو سمجھتے تھے۔چنانچہ ریاض الصالحین کے مصنف اپنی کتاب میں جو احادیث جمع کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ساتھ وہ قرآن کریم کی آیات بھی لاتے ہیں۔لیکن ریاض الصالحین کے مصنف نے ایک چھوٹا کام کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان آیات کو اتنا جمع کیا ہے کہ آپ کی کتابیں پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویاوہ ایک سلک ہیں جن میں تمام آیات کو پرو دیا گیا ہے۔بہر حال قرآن کریم کا بہت بڑا کام ابھی باقی ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں اس سال توفیق دے کہ ہم اس میں ہے سے زیادہ حصہ پورا کر دیں اور آئندہ بھی وہ ہمیں توفیق دیتا چلا جائے تا کہ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہ توی رہے جس میں قرآن کریم کا ترجمہ نہ ہو اور دنیا کا کوئی فرد ایسا نہ رہے جو اپنی زبان میں قرآن کریم نہ پڑھ سکے۔آج ہی میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ اس میں میں نے پڑھا کہ ایک روسی مستشرق نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا نہیں۔بلکہ اسے نَعُوذُ بِالله خلفاء کے زمانہ میں تصنیف کیا گیا تھا اور یہ که قرآن کریم محض فرسودہ داستانوں کا مجموعہ ہے۔پھر اس مصنف نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فوق البشر کلام ہے اور اسی طرح تقدس کا نظریہ پیدا کیا گیا ہے یہ سائنسی معلومات کی راہ میں حائل ہے اور قرآن کریم ترقی کے منافی ہے حقیقت میں قرآن کریم بنیادی طور پر اُن پرانی داستانوں کا مجموعہ ہے جو بائبل اور دوسری مقدس کتابوں میں شامل تھیں اگر اس مصنف تک ہماری تفسیر پہنچ جائے تو اس کی آنکھیں کھل جائیں۔ایک ترک پروفیسر نے مجھے لکھا ہے کہ آپ دنیا کے سامنے جو پیغام پیش کر رہے ہیں وہ آپ کی تصنیف دیباچہ انگریزی ترجمہ القرآن کے ذریعہ مجھ تک پہنچا ہے۔یہ دیباچہ ایک نہایت عالمانہ کتاب ہے جو خاص خدائی تائید کے ماتحت لکھی گئی ہے۔اس کا مطالعہ بہت سے امور کے متعلق