خطبات محمود (جلد 37) — Page 83
$1956 83 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس لیے ایک وقت آئے گا کہ جو طالبعلم اب دین سیکھیں گے اور اپنے اندر تقوای پیدا کریں کی گے مرکز کی کلیدی آسامیاں انہی کے پاس جائیں گی اور انہی کا کام ہو گا کہ وہ مرکز کے اہم ترین کام سرانجام دیں۔چاہے انہیں وہ کام ملک کے اندر رہ کر سرانجام دینے پڑیں یا ملک سے باہر رہ کر۔اِس وقت ہمارے جو مبلغ ہیں وہ مرکز سے باہر رہ کر تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔لیکن ایک وقت آئے گا جب مرکز کو ان کی ضرورت ہوگی اور باہر تبلیغ کرنے کی بجائے ان کا مرکز میں رہ کر خدمات بجا لانا زیادہ مفید ہو گا۔اُس وقت انہیں مرکز میں بلا کر سلسلہ کے کلیدی کام سپرد کیے جائیں گے۔اس سلسلہ میں میں غور کر رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ جو مبلغین باہر جاتے ہیں اُن پر وہاں شادی کے بغیر رہنا گراں گزرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے بعض مبلغ دس دس گیارہ گیارہ سال باہر رہ کر کام کرتے رہے ہیں اور اُن کے بیوی بچے ساتھ نہیں تھے اور انہوں نے کام بھی نہایت شاندار کیا ہے۔لیکن معلوم نہیں اس وقت یہ حالت کیوں پیدا ہو گئی ہے کہ مبلغین پر بغیر بیویوں کے باہر رہنا گراں گزرتا ہے۔بہر حال سب لوگ ایک ہی رنگ کے نہیں ہو سکتے۔بعض مبلغ ایسے تھے جنہوں نے بیوی بچوں سے جدا رہ کر سالہا سال تک کامیاب طور پر تبلیغ کا کام کیا لیکن اس وقت جو مبلغ باہر ہیں ان میں سے بعض زیادہ دیر تک بغیر شادی کے رہنا برداشت نہیں کر سکے۔ویسے وہ بہت اچھے مبلغ ہیں اور انہوں نے عمدہ کام کیا ہے۔چنانچہ ان میں سے بعض نے مرکز سے اجازت لے کر امریکہ اور یورپ میں شادیاں کر لی ہیں۔جہاں تک شادی کا سوال ہے یہ قرآن وسنت کے عین مطابق ہے۔لیکن یورپ کی میں شادی کرنا دو لحاظ سے خطرناک طور پر مضر ہے۔ایک تو اس لحاظ سے کہ یورپین عورتیں کی پردہ نہیں کرتیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والوں پر اُن کا بُرا اثر پڑتا ہے۔چنانچہ وہ مبلغ جنہوں نے یورپ میں شادیاں کی تھیں میرے وہاں جانے پر بعض لوگوں نے اُن کے متعلق عتراض کیا کہ جب مبلغوں کی اپنی عورتیں پردہ نہیں کرتیں تو دوسروں پر ان کا کیا اثر ہو گا۔بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ مبلغ خود بیویوں کے اثر کے نیچے مغربیت کے رنگ میں رنگین ہو رہے ہیں۔جہاں تک پردہ کا سوال ہے ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں کہ اگر