خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 77

$1956 77 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہیں انہوں نے اسے ڈنڈا تو نہیں مارنا تھا۔بہر حال تہذیب اور شرافت کے ساتھ انہوں نے اس کے اعتراض کا ضرور جواب دیا ہو گا لیکن بیان کرنے والے نے آدھی بات بیان کر دی اور ان کے جواب کا ذکر نہیں کیا اور اس طرح اُس نے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ جو شخص بھی چودھری صاحب کو جانتا ہے وہ اس قسم کی بات اُن کی طرف منسوب کرنے والے کو جھوٹا ہی کہے گا کیونکہ وہ اسلام اور قرآن کریم سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ ایک پارسی نے ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا اور اس پر بڑے فخر کا اظہار کیا گیا ہے۔حالانکہ اس میں فخر کی کونسی بات ہے۔ہماری جماعت میں بہت سے ایسے آدمی ہیں جنہوں نے لاکھ لاکھ روپیہ سے زیادہ کی مالی قربانی کی ہے۔مثلاً چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو ہی لے لو انہوں نے مجھے اپنی زمین کا ایک حصہ بطور نذرانہ پیش کیا تھا تا کہ میں اپنا علاج کرا سکوں۔میں نے وہ زمین تحریک جدید کو دے دی اور وہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں پکی۔اب دیکھ لو چودھری ظفر اللہ خان صاحب تاجر نہیں۔وہ پارسی تو تاجر ہو گا اور اُس کی آمد چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے یقیناً بہت زیادہ ہو چودھری ظفر اللہ خان صاحب تو ملازم ہیں اور انکم ٹیکس ادا کرنے کے بعد ان کی تنخواہ میں سے دو ہزار یا اکیس سو ماہوار بچتے ہیں۔لیکن پھر بھی انہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ ایک وقت میں دے دیا۔اسی طرح میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ میں نے جو چندے اور عطیے جماعت کو دیئے ہیں اُن کو ملایا جائے تو دولاکھ ستر ہزار کے قریب رقم بنتی ہے۔اگر انہیں ایک تاجر نے ایک لاکھ روپیہ دے دیا تو اس میں فخر کی کونسی بات ہے۔ہماری جماعت میں اس کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔میں نے ایک مثال چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی ہی دی ہے۔وہ اگر چہ غریب آدمی ہیں مگر انہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ دیا۔اس کے علاوہ بھی اور بعض رقوم ہیں جو مختلف مدات میں انہوں نے دیں۔اگر اُن کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان کا چندہ اڑھائی لاکھ روپیہ کے قریب بن جاتا ہے۔پھر اس کی مثالیں گزشتہ زمانہ کے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔دہلی میں چاندنی چوک کو ہی دیکھ لو اس علاقہ میں لاکھوں روپیہ کے