خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 78

$1956 78 خطبات محمود جلد نمبر 37 وقف موجود ہیں۔پس اگر کوئی کروڑ پتی تاجر ایک لاکھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے تو اس میں فخر کی کون سی بات ہے۔ہماری جماعت میں تو چوبیس روپے ماہوار کمانے والا بھی ڈیڑھ روپیہ ماہوار چندہ دے دیتا ہے اور یہ ایسی قربانی ہے جس کی مثالیں یورپ اور امریکہ میں بھی نہیں پائی جاتیں۔اب میں نے امریکہ میں وصیت کی تحریک کی ہے اور ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ وہاں اس تحریک کو سنتے ہی تین امریکنوں نے وصیت کر دی ہے۔غرض ہماری جماعت کے افراد جس قدر مالی قربانی کر رہے ہیں اس کی مثال اور کہیں نہیں مل سکتی۔ایک آدمی پندرہ ہیں روپے کماتا ہے اور اس رقم میں اُس کے گھر کا گزارہ بھی نہیں چلتا۔وہ خود فاقے رہتا ہے لیکن روپیہ ڈیڑھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے۔پھر کسی کروڑ پتی کے لیے صرف ایک دفعہ ایک لاکھ روپیہ دے دینا کونسی مشکل بات ہے؟ میں نے لارڈ نفیلڈ کے متعلق ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ اُس نے پچھلی جنگ میں ایک لاکھ پونڈ بطور چندہ دیا تھا۔اس پر چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک انگریز نے مجھ سے ذکر کیا کہ آپ اسے کوئی بڑا کمال نہ سمجھیں۔اُن دنوں گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے ملک میں ایک پونڈ پر ساڑھے انیس شلنگ ٹیکس لگتا تھا۔اس لیے اگر کوئی شخص ایک پونڈ چندہ دیتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ اُس نے صرف چھ پنس چندہ دیا ہے کیونکہ پونڈ کا باقی حصہ بہر حال ٹیکس میں جانا تھا۔لارڈ نفیلڈ نے بھی خیال کیا کہ چلو اتنے ہزار پونڈ تو میں نے ٹیکس دینا ہی تھا کچھ اور ڈال کر ایک لاکھ پونڈ چندہ دے دو تا کہ ملک میں میری شہرت ہو جائے اور میں لیڈر بن سکوں۔بہر حال اس تاجر کا ایک لاکھ روپیہ چندہ دے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔اس سے زیادہ چندہ دینے والے ہماری جماعت میں بھی پائے جاتے ہیں۔بلکہ ہم میں سے اکثر با وجود کم آمد ہونے کے اپنی حیثیت سے بہت بڑھ کر چندہ دیتے ہیں۔مجھے ہی دیکھ لو اگر پنے چندے گناؤں تو ایک قسم کی تعلمی ہو جاتی ہے۔لیکن پھر بھی اس بیماری کے باوجود جتنی رقم چندہ میں میں دے رہا ہوں اُس کے مقابلہ میں اس پارسی کی قربانی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔حال ہی میں میں نے اپنی ایک زمین جو تھل میں تھی تحریک جدید کو دی۔یہ زمین 650 ایکڑ تھی جس میں سے صرف 140 ایکڑ مجھے ملی باقی زمین حکومت نے