خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 54

$1956 54 خطبات محمود جلد نمبر 37 حساب کے دیتا ہے۔میں جب بھی اپنے اخراجات اور آمد کا حساب لگاتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگلے ماہ کے اخراجات کے لیے روپیہ نہیں۔لیکن پھر استغفار کرتا ہوں اور اعداد و شمار کا خیال دل سے نکال دیتا ہوں تو خدا تعالیٰ روپیہ بھیج دیتا ہے۔پس تم مومن بنو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے پاس سے رزق دے گا ورنہ لالچی کا پیٹ دنیا میں کوئی نہیں بھر سکتا۔ہاں! لالچ کو دل سے نکال دو تو اللہ تعالیٰ تمہاری ضروریات پوری کرنے کا سامان غیب سے کر دے گا۔صدرانجمن احمدیہ کسی کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔پیٹ خدا تعالیٰ ہی بھرتا ہے اور وہ بھی اِس طرح کہ وہ دل سے لالچ کو دور کر دیتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے آٹھ دس سال کی عمر کے پوتے کا پیٹ ایک روٹی سے نہیں بھرتا تھا لیکن میرا پیٹ آدھی روٹی سے بھر جاتا تھا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ میری اشتہا 2 آدھی روٹی میں ہی پوری کر دیتا تھا۔غرض خدا تعالیٰ کے طریق نرالے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب وفات پائی تو میرے گھر میں سوائے نصف وسق جو کے اور کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی مگر اُسی نصف وسق جو میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت پیدا کی کہ میں ایک عرصہ دراز تک اُس میں سے کھاتی چلی گئی۔آخر ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ تول کر دیکھوں کہ کتنے جو ہیں۔جب میں نے انہیں تو لا تو اُس کے بعد وہ جو ختم ہو گئے۔3 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔آپ اکثر مشک استعمال فرمایا کرتے تھے۔میں نے بھی اخبار میں اعلان شائع کرایا ہے کہ مجھے خالص مشک کی ضرورت ہے۔وہ لوگ جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں مشک دستیاب ہوسکتا ہے اگر وہ خالص مشک کے تین چار نافے 4 خرید کر بھجوا دیں اور مجھے قیمت کی اطلاع دے دیں تو میں اُن کو قیمت بھجوا دوں گا کیونکہ آجکل مجھے شدید سردی محسوس ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے مشک کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی سردی محسوس ہوتی تھی۔اس لیے آپ بھی مشک کھایا کرتے تھے۔آپ مشک کی ایک شیشی بھر کر جیب میں رکھ لیتے اور ضرورت کے وقت استعمال کر لیا کرتے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیشی دو دو سال تک چلی جاتی ہے لیکن جب خیال آتا ہے کہ مشک تھوڑی رہ گئی ہے