خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 55

خطبات محمود جلد نمبر 37 ہوگی اور شیشی دیکھتا ہوں تو وہ ختم ہو جاتی ہے۔55 $1956 پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب سے رزق بھیجتا ہے اور اس کے رزق بھیجنے کے طریق نرالے ہیں۔پس تم اس ذات سے مانگو جس کا خزانہ خالی نہیں ہوتا۔انجمن سے کیوں مانگتے ہو جس کے پاس اتنی رقم ہی نہیں کہ وہ تمہارے گزارے بڑھا سکے۔پس تم خدا پرست بن جاؤ خدا تعالیٰ غیب سے تمہیں رزق بھیج دے گا۔صدرانجمن احمدیہ کے پاس اتنا روپیہ نہیں کہ وہ تمہیں زیادہ گزارے دے سکے۔آخر اس کے پاس جو روپیہ آتا ہے وہ جماعت کے چندوں سے ہی آتا ہے اور وہ اس قدر زیادہ نہیں ہوتا کہ شاہدین کو زیادہ گزارے دیئے جاسکیں۔پھر صدرانجمن احمد یہ کیمیا گر نہیں اور نہ ہی وہ ملمع ساز ہے کہ خود سکہ کو سونا بنالے یا مع کر کے روپیہ دے دے۔خدا تعالیٰ روپیہ بھیجے گا تو اس نے اسے خزانہ میں محفوظ نہیں رکھنا۔اس نے بہر حال اسے خرچ کرنا ہے۔اس لیے جب اس کے پاس کافی روپیہ آئے گا تو وہ تمہارے گزارے بھی بڑھا دے گی لیکن پھر بھی اصل طریق یہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے مانگو جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ جماعت کے خزانہ میں روپیہ لائے گا تو وہ تمہیں بھی گزارے دے گی۔آخر وہ کون بیوقوف ہے جو خزانہ میں روپیہ ہوتے ہوئے بھی کارکنوں کو اچھے گزارے دینے میں کوتاہی کرے گا۔پچھلے دنوں میں نے اندازہ لگایا تو جماعت کے دو سو مبلغ تھے اور دوسو کے قریب یہاں کلرک وغیرہ ہیں اور انجمن کی گل آمدنی دس لاکھ روپیہ سالانہ ہے۔اس دس لاکھ میں سے اس نے چار سو کارکنوں کو گزارے دینے ہیں۔پھر دوسرے ادارے بھی ہیں جن کے اخراجات اسے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔مثلاً کالج ہیں، اسکول ہیں، لنگر خانہ ہے، ہسپتال ہے۔اگر صدرانجمن احمد یہ اپنے چار سو کارکنوں کو پچاس پچاس روپیہ ماہوار بھی دے تو اسے صرف تنخواہوں کے لیے ہیں ہزار روپیہ ماہوار چاہیے۔گزارے بڑھانے کی یہی صورت ہے کہ چندے بڑھیں۔اور چندے اس صورت میں بڑھ سکتے ہیں کہ چندہ دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔میں نے ایک دفعہ مبلغوں سے دریافت کیا کہ اُن کے ذریعہ سال میں کتنے افراد احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔تو ان میں سے اکثر ایسے تھے جن کے ذریعہ سال بھر میں کوئی