خطبات محمود (جلد 37) — Page 53
$1956 53 خطبات محمود جلد نمبر 37 دوسری طرف دو دوست بھیج دیئے جنہوں نے کچھ عرصہ تک استعمال کرنے کے لیے مجھے روپیہ دے دیا اور بعد میں خدا تعالیٰ نے انہی زمینوں میں اتنی برکت دی کہ تقسیم ملک کے بعد جب گزارہ کی کوئی اور صورت نہیں تھی تو ان کی آمد سے خدا تعالی تمام ضروریات پوری کرتا رہا۔ب دیکھ لو! یہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيَ إِلَيْهِمُ مِّنَ السَّمَاءِ والا ہی معاملہ ہے۔جب ہم قادیان سے آئے تو میں نے اپنے گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ تمہیں لنگر سے اُسی قدر کھانا ملے گا جس قدر دوسروں کو ملتا ہے۔اُن دنوں میں نے یہ ہدایت دی ہوئی تھی کہ مالی تنگی کی وجہ سے صرف ایک ایک روٹی فی کس دی جائے اور گھر والوں کو بھی میں نے کہا کہ تمہیں بھی ایک ایک روٹی فی کس ملے گی۔ایک دن میرا پوتا انس احمد روتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ کہتا ہے ایک روٹی سے میرا پیٹ نہیں بھرتا۔میں نے کہا میں نے تو ایک ہی روٹی دینی ہے۔اگر اس کا پیٹ ایک روٹی سے نہیں بھرتا تو مجھے آدھی روٹی دے دیا کرو اور میری آدھی روٹی اسے دے دیا کرو۔اس طرح میں آدھی روٹی میں گزارہ کر لیا کروں گا اور یہ ڈیڑھ روٹی کھا لیا کرے گا۔جب مہمانوں کے لیے ایک روٹی کی شرط اُڑ جائے گی تو پھر میں گھر والوں کے لیے بھی فی گس روٹیوں کی تعداد بڑھا دوں گا۔لیکن جب تک مہمانوں کے لیے ایک روٹی کی شرط نہیں اُڑتی اسے میری روٹی کا نصف حصہ دے دیا کریں۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور نہ صرف سندھ کی زمینوں کی پیداوار اچھی ہو گئی بلکہ خدا تعالیٰ نے آمد کے اور رستے بھی کھول دیئے۔پھر دیکھ لو یہاں آئے تو شروع شروع میں صدرانجمن احمدیہ نے کچے مکانات بنا کر دیئے لیکن مجھے اپنے خاندان کے لیے مستقل مکانات کی ضرورت تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اُس نے غیب سے روپیہ کا انتظام کر دیا۔اس وقت میرے دس پخته مکان بن ہیں۔میری چار بیویاں ہیں، تیرہ لڑکے ہیں اور نو لڑکیاں ہیں۔اس لیے مجھے چھیں مکانات کی ضرورت ہے۔صدر انجمن احمدیہ نے ناظروں کے لیے آٹھ مکانات بنوانے ہیں لیکن وہ ابھی تک نہیں بنا سکی۔لیکن میں نے چھپیں بنانے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس قدر رقم مجھے کہیں نہ کہیں سے دے دے گا جس سے چھیں مکانات بن جائیں گے۔کیونکہ وہ بغیر