خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 574

$1956 574 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ حضرت عباس کی آواز ہمارے کانوں میں پڑی۔اُس وقت یوں معلوم ہوا کہ ہم اس دنیا میں نہیں ہیں بلکہ ہم مر چکے ہیں اور قبروں سے اُٹھے ہیں، اسرافیل صور بجا رہا ہے اور ہم حساب دینے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے جا رہے ہیں۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب قیامت کے دن خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز دی جائے گی تو لوگ بے تحاشا خدا تعالیٰ کی طرف بھاگ پڑیں گے۔اسی طرح اُس وقت ہم بھی سمجھتے تھے کہ اب ٹھہرنا ہمارے لیے ممکن نہیں اور سواریاں ہماری مڑتی نہیں۔ہم نے اس زور سے باگیں موڑیں کہ ہماری سواریوں کے سر پیٹھ سے لگ جاتے تھے لیکن جب باگیں ڈھیلی ہوتیں تو سواریاں پھر پیچھے کی طرف دوڑ پڑتیں۔وہ صحابی کہتے ہیں جب حضرت عباس کی آواز ہمارے کان میں پڑی اور ہم نے دیکھا کہ ہماری سواریاں ہمارے بس میں نہیں رہیں تو ہم میں سے بعض نے اپنی بھاگتی ہوئی سواریوں پر سے چھلانگیں لگا دیں اور ڈری ہوئی سواریوں کو انہوں نے خالی چھوڑ دیا کہ وہ جدھر چاہیں چلی جائیں اور بعض نے اپنی تلواریں میانوں سے باہر نکالیں اور ان سے اپنی سواریوں کی گردنیں ں دیں اور خود پیدل دوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل پڑے اور منہ سے یہ کہتے جاتے تھے کہ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ الله يَا رَسُول اللہ ! آپ کا پیغام ہمیں پہنچ پچ گیا ہے۔یا رَسُول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں۔5 پر فَلْيَسْتَحِبُوالی کا یہ مطلب ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے تو اس کے بندوں کو چاہیے کہ وہ بھی اس آواز کا جواب دیں اور خدا تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑیں۔خدا تعالی آسمان سے بولا نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے نبیوں کے ذریعہ سے بولا کرتا ہے۔اس لیے جب اُس کا کوئی نبی آئے تو ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی مدد کریں اور یقین رکھیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کیا کرتا ہے۔صحابہ نے اس کا جو نمونہ دکھایا ہے وہ کسی اور نبی کی قوم نے نہیں دکھایا۔انہوں نے جب دیکھا کہ ان کی سواریاں پیچھے بھاگ رہی ہیں اور واپس نہیں مڑتیں تو وہ ان کی پیٹھوں پر سے نیچے کود پڑے یا انہوں نے ان کی گردنیں کاٹ دیں اور خود پیدل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگ پڑے اور آپ کے گرد گھیرا ڈالنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کا لشکر جمع ہو گیا