خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 575

575 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور انہوں نے کفار پر حملہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن بھاگ گیا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔یہ گویا وَلْيُؤْمِنُوالی کا ثبوت مل گیا۔فَلْيَسْتَجِیوانی کا حکم صحابہ سے تعلق رکھتا تھا کہ وہ خدا تعالی کی آواز سن کر اُس کی طرف بھاگ پڑیں۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی اُس طرف بھاگ پڑے۔اور وَلْيُؤْمِنُوالی کا حصہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا جب صحابہ اس یقین سے واپس لوٹے کہ خدا تعالیٰ ان کی مدد کرے گا تو آناً فاناً انہیں نصیب ہو گئی۔دشمن کی فوج کے سپاہی قید ہوئے ، اُن کی عورتیں پکڑی گئیں اور ان کے اموال، غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ اسی قبیلہ میں سے تھیں۔جب کفار کو شکست ہوئی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہنوں کے پاس آئے کیونکہ انہیں امید تھی کہ وہ ان کی وجہ سے اپنے اموال اور قیدی واپس لے سکیں گے۔انہوں نے آپ کی بہنوں کو مخاطب کر کے کہا کہ تم اس وقت ہماری مدد کر سکتی ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے گھر میں پہلے ہیں۔تم اگر جاؤ اور ہماری سفارش کرو تو وہ تمہاری سفارش ضرور مان لیں گے اور ہمارے اموال اور قیدی ہمیں واپس لوٹا دیں گے۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے اس قوم میں پرورش پائی ہے آپ انہیں معاف کر دیں اور ان کے اموال اور قیدی واپس لوٹا دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک ماہ تک انتظار کرنے کے بعد قیدی اور اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے ہیں۔ممکن ہے ان لوگوں کو اپنی طاقت پر غرور ہو اور انہیں خیال ہو کہ وہ دوبارہ مسلمانوں کا مقابلہ کریں گے اور فتح حاصل کر لیں گے اس لیے وہ کوئی سفارش لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر نہ ہوئے۔یا پھر ان کے ایک ماہ تک نہ آنے کی یہ وجہ ہو کہ انہیں یہ امید ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قبیلہ میں پرورش پانے اور دودھ کے تعلق کی وجہ سے آپ ہی آپ ہمیں معاف فرما دیں گے۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارا ایک ماہ تک انتظار کیا ہے لیکن جب تم نہ آئے تو میں نے اموال اور قیدی کی مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے۔اب دوباتوں میں سے ایک اختیار کر لو۔یا تو تم اپنے قیدی