خطبات محمود (جلد 37) — Page 519
$1956 519 خطبات محمود جلد نمبر 37 زیادہ سے زیادہ حصے خالی کر کے جلسہ سالانہ کے کارکنوں کے سپرد کریں تا کہ وہ اُن لوگوں کے لیے انتظام کر سکیں جو الگ مکانات مانگتے ہیں۔باقی ابھی تو ہمارے پاس عمارتیں کافی ہیں جن میں مہمانوں کا گزارہ ہو جاتا ہے۔سلسلہ کے اپنے مکانات ہیں، سکول ہیں، کالج ہیں، پھر لنگر خانہ ہے، مساجد ہیں ان میں مردوں کا گزارہ ہو جاتا ہے۔مستورات کے ٹھہرنے کے لیے لجنہ کا ہال ہے، اسی طرح لڑکیوں کا سکول ہے، زنانہ کالج ہے، سر دست ان کا گزارہ وہاں ہو جاتا ہے لیکن جب آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو پھر ان عمارتوں میں تمام مہمان نہیں ٹھہرائے جاسکیں گے بلکہ ہمیں پختہ بیر کیں بنانی پڑیں گی۔اور ایک ایک اینٹ کی پختہ بیر کیں جائیں تو بار بار اُن کی مرمت کا سوال نہیں ہو گا۔حاجی جب جہازوں میں جاتے ہیں تو اُن کے لیے سات فٹ جگہ فی کس مقرر کی جاتی ہے۔اگر ہمارے ہاں ایک لاکھ مہمان آئیں تو اُن کے لیے سات لاکھ فٹ جگہ کی ضرورت ہو گی۔اگر عورتوں کو نکال لیا جائے تو پھر بھی پانچ لاکھ فٹ جگہ کی ہمیں ضرورت ہو گی اور پانچ لاکھ فٹ کے معنے یہ ہیں کہ دس ایکڑ زمین کی ہمیں بیرکوں کے لیے ضرورت ہو گی۔میں نے جب حج کیا اُس وقت میں نے دیکھا کہ وہاں رات کو گلیوں میں لوگ پڑے ہوتے تھے اور ساٹھ ساٹھ ، ستر ستر آدمی گلی میں سو رہتے تھے ، نیچے اپنی دوتھیاں بچھا لیتے تھے اور تکیہ کی بجائے کوئی سخت سی چیز سر کے نیچے رکھ لیتے تھے کیونکہ مکہ مکرمہ میں حج کے دنوں میں مکانات بہت کم ملتے ہیں۔مگر یہاں جلسہ پر آنے والوں میں سے ہر ایک کو رہنے کے لیے جگہ ملتی ہے۔اگر زیادہ مہمان آنے شروع ہو گئے تو ممکن ہے کسی دن ہمیں جلسہ پر آنے والوں سے مکہ مکرمہ والوں کی طرح یہ امید بھی رکھنی پڑے کہ وہ جلسہ کے دنوں میں گلیوں میں بستر بچھا کر سو رہا کریں۔لیکن اگر تنظیم قائم رہے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جب وہ دن آئے گا تو جماعت کے خزانہ میں روپیہ بھی زیادہ آ جائے گا اور پھر دس یا ہیں ایکٹر میں عمارتیں بنانی جماعت کے لیے مشکل نہیں ہوں گی۔ایک کنال زمین میں چھ ہزار پانچ سو فٹ جگہ ہوتی ہے۔اس لحاظ سے ایک ایکٹر میں باون ہزار فٹ جگہ ہوئی اور پانچ لاکھ فٹ کے لیے دس ایکڑ میں پختہ بیر کیں بنائی جائیں تو قریباً ایک لاکھ آدمی وہاں گزارہ سکے گا۔لیکن جب جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد ایک لاکھ ہو جائے گی