خطبات محمود (جلد 37) — Page 520
$1956 520 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا چندہ بھی پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ ہو گا بلکہ ایک کروڑ روپیہ سالانہ ہو گا اور اُس وقت دس ایکڑ زمین میں بیر کیں بنانی کوئی مشکل نہیں ہوں گی صرف بیرکوں کے لیے زمین تلاش کرنی پڑے گی۔سو خدا تعالیٰ کے فضل سے ابھی ربوہ میں تھوڑی ہت زمین باقی ہے۔پھر کچھ زمین سلسلہ نے چھنی میں بھی خریدی ہے اور کچھ زمین احمد نگر میں احمدیوں کو مل گئی ہے۔ان سب زمینوں کو استعمال کیا جائے تو سو ایکٹر زمین بھی مل سکتی ہے اور سو ایکڑ زمین میں مکانات بن جائیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ دس لاکھ مہمانوں کی رہائش کا انتظام ہو سکتا ہے۔بیشک اس پر چالیس پچاس لاکھ روپیہ لگ جائے گا لیکن اس کے لیے فکر کی ضرورت نہیں۔اُس وقت جماعت بھی دس ہیں لاکھ ہو جائے گی اور پھر اس کے لیے پچاس لاکھ روپیہ بلکہ ایک کروڑ روپیہ خرچ کرنا بھی مشکل نہیں ہوگا۔بہر حال جب تک وہ دن نہ آئے اُس وقت تک ایک تو ربوہ والوں کو جلسہ کے لیے اپنے مکانات پیش کرنے چاہیں اور پھر انہیں اپنی خدمات بھی پیش کرنی چاہیں تا کہ جلسہ پر آنے والوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔باہر کی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد چندہ جلسہ سالانہ بھجوائیں اور پھر ابھی سے جلسہ سالانہ پر آنے کی تیاری کریں اور اپنے غیر احمدی دوستوں کو جن کے متعلق ان کا خیال ہو کہ وہ فائدہ اُٹھائیں گے ساتھ لانے کی کوشش کریں۔ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جو جلسہ سالانہ پر آ جاتے ہیں اُن میں سے بہت کم لوگ بغیر اثر کے جاتے ہیں۔اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں جو بیعت کر جاتے ہیں۔اس لیے اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر آپ لوگ انہیں پنے ساتھ لانے کی کوشش کریں۔جلسہ سننے کا تو انہیں اتنا شوق نہیں ہوتا جتنا احمدیوں کو ہوتا ہے لیکن میلہ دیکھنے کا انہیں ضرور شوق ہوتا ہے۔اس لیے انہیں کہیں چلو میلہ ہی دیکھ آؤ۔اور اگر وہ میلہ کے نام پر ہی یہاں آ جائیں اور یہاں آ کر اُن کا خدا اور اُس کے رسول سے میل ہو جائے تو اس میں تمہارا کیا حرج ہے۔یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب احمدی جلسہ سے واپس جاتے ہیں اور وہ اپنی مجالس میں ذکر کرتے ہیں کہ وہاں اس دفعہ یہ یہ دین کی باتیں ہوئیں تو غیر احمدیوں میں بھی چونکہ ایمان ہوتا ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال ہم بھی چلیں گے لیکن سال کے آخر تک ان کا وہ جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔