خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 500

$1956 500 خطبات محمود جلد نمبر 37 چودھری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی کو بھیج دیا تا کہ وہ اس کا ترجمہ کر کے مجھے بھیجیں۔انہوں نے اس خط کا ترجمہ کر کے مجھے بھیج دیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ خط لکھنے والا ایک فوجی افسر ہے۔اُس نے لکھا ہے کہ میں نے آپ کا انگریزی ترجمہ القرآن پڑھا ہے اور اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں اور میں آپ کی جماعت میں داخل ہوتا ہوں۔جب فرصت ہوئی میں ہیمبرگ جاؤں گا اور احمد یہ مشن سے تعلقات قائم کروں گا۔اگر اس شخص کے ذریعہ اس علاقہ میں تبلیغ شروع ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں بھی احمدیت پھیل سکتی ہے اور اگر اسے بھی ایک جماعت شمار کر لیا جائے تو یہ دوسری جماعت ہے جو اس فتنہ کے بعد جرمنی میں قائم ہوئی ہے۔پھر ایک جماعت سکنڈے نیویا میں قائم ہوئی ہے۔گویا یہ چار نئی جماعتیں ہیں جو اسی تھوڑے سے عرصہ میں غیر ممالک میں قائم ہوئی ہیں۔جیسا کہ میں نے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے نظامِ دینی سے الگ ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں تمہیں ایک قوم دے گا جو مومنوں کے ساتھ نہایت انکسار کا تعلق رکھنے والی اور کفار کی شرارتوں کا دلیری سے مقابلہ کرنے والی ہو گی۔گویا اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر تم واقع میں مومن ہو تو جو تمہارے نظام کو چھوڑے گا اُس کے متعلق تم کو کچھ کرنے کا حکم نہیں بلکہ اُس کے متعلق ہم اپنے اوپر ایک ذمہ داری لیتے ہیں۔اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ ایک ایک شخص کے بدلہ میں ہم ایک ایک قوم کفار میں سے لا کر تمہارے اندر داخل کریں گے۔چنانچہ اس فتنہ کے بعد ہی کئی سو افراد تو اس ملک میں احمدیت میں داخل ہوئے۔اور دوسرا فضل اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ غیر ممالک میں چار نئی جماعتیں قائم کر دیں جن میں سے دو جرمنی میں قائم ہوئی ہیں، ایک فلپائن میں قائم ہوئی ہے اور ایک سکنڈے نیویا میں نئی جماعت بنی ہے۔سوئٹزرلینڈ سے بھی جو خبریں آ رہی ہیں وہ خوش گن ہیں۔ہمارے مبلغ کی آسٹریا کی ایک یونیورسٹی میں بڑی کامیاب تقریر ہوئی۔وقت اگر چہ ختم ہو گیا تھا مگر پھر بھی سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا اور اُن لوگوں نے خواہش کی کہ اس قسم کی اور تقاریر بھی ہونی چاہییں۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو وعدہ فرمایا تھا کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ تُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَة 1