خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 490

$1956 490 خطبات محمود جلد نمبر 37 ذریعہ ہو رہی ہے جو ہزاروں روپیہ اس کام کے لیے دے رہے ہیں۔شادیاں ہوتی ہیں ، عقیقے ہوتے ہیں تو لوگ بڑے شوق سے روپیہ خرچ کرتے ہیں۔اسی طرح اگر وہ اپنے دلوں میں اشاعتِ اسلام کی سچی تڑپ رکھیں تو تبلیغ کے لیے کیوں نہیں دے سکتے ؟ ابھی تھوڑے دن ہوئے مجھے افریقہ کے ایک احمدی دوست ملے۔انہوں نے کہا آپ نے رخصتمانہ کے موقع پر لڑکی والوں کو کھانا کھلانے کی بالکل ممانعت کر دی ہے حالانکہ ہمارا وہاں بہت اثر ہے اور گورنر اور بڑے بڑے عہد یدار ہمیں اپنے ہاں بلاتے ہیں۔اگر ہم انہیں اپنے ہاں نہ بلائیں تو وہ ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ تم لوگ ہماری دعوتیں تو کھا جاتے ہو اور اپنی باری آئے تو ہمیں نہیں کھلاتے۔ہماری مالی حیثیت پاکستانیوں سے بہت اچھی ہے۔آپ کی ہمیں اجازت دیں کہ ہم ایسے موقعوں پر گورنروں اور دوسرے عہد یداروں کو اپنے ہاں دعوتوں میں بلا لیا کریں تا کہ وہ ہمیں طعنہ نہ دے سکیں کہ ہم ان کو اپنے ہاں نہیں بلاتے۔پھر ہمارے ہاں چار چار، پانچ پانچ میل پر مکانات ہوتے ہیں۔اگر اس قسم کے مواقع پر آنے والوں کو کھانا نہ کھلایا جائے تو بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ وہ اپنے ملک کے حالات لکھ کر بھیج دیں تو ان پر غور کر لیا جائے گا۔یورپ میں بھی پانچ پانچ ، سات سات میل پر کوٹھیاں ہوتی ہیں۔اگر اس قسم کے مواقع پر کوئی شخص ایک لمبا فاصلہ طے کر کے کسی کے گھر ہائے تو اسے کھانا نہ کھلایا جائے تو اُس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اُس دن فاقہ سے رہے۔میں نے اس واقعہ کا سید عبدالرزاق شاہ صاحب سے ذکر کیا جو کہ نیروبی میں رہ چکے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس دوست کی بیٹی کی شادی تھی تو انہوں نے جو دعوت کے خرچ کا اندازہ لگایا تھا وہ سات ہزار روپیہ تھا۔میں نے وہ خرچ اُڑا دیا اور اس طرح اُن کی شادی بغیر خرچ کے کروا دی۔بہرحال افریقہ میں امارت ہے اور لوگوں کے پاس روپیہ ہے اور پھر وہ لوگ قربانی بھی کرتے ہیں۔اگر اس علاقہ میں ہماری جماعت موجودہ جماعت سے دس گنا ہو جائے تو صرف افریقہ کی جماعت کا چندہ ہیں پچیس لاکھ روپیہ سالا نہ ہو جاتا ہے۔اور اگر امریکہ میں بھی موجودہ جماعت دس گنا ہو جائے تو ان کا چندہ بھی بیس پچیس لاکھ روپیہ سالا نہ ہو جاتا ہے