خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 441

$1956 441 خطبات محمود جلد نمبر 37 ضبط ہوئی ہندوؤں نے فوراً اسے چھپوا دیا۔ورتمان نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کیا تو میں نے اُس کا جواب لکھا۔اس جواب کی وجہ سے گورنمنٹ کو بمبئی سے چیف جج کو چھٹی سے واپس منگوانا پڑا اور اس شخص پر مقدمہ چلایا گیا اور اس کے اخبار کو ضبط کیا گیا مگر بعد میں مجھے پتا لگا کہ ہندوؤں نے اس مضمون کی لاکھوں کا پیاں چھپوا کر شائع کر دی ہیں۔اس کتاب کے متعلق بھی جب مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا اور انہوں نے احتجاج کیا تو اتنا فائدہ تو ضرور ہوا کہ حکومت نے کتاب ضبط کر لی مگر اچھا ہوتا کہ مسلمان چندہ جمع کر کے اس کا جواب شائع کر دیتے۔ایک دفعہ میں ڈلہوزی گیا۔کشمیر کا نیانیا کام تھا۔اُس وقت چمبہ کی ریاست میں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا تھا۔وہاں کی انجمن کا ایک سیکرٹری میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آپ ان مسلمانوں کی بھی خبر لیں۔میں نے کہا یہ سیاسی لوگوں کا کام ہے۔مجھے تو ایک جگہ نظر آیا کہ پچاس لاکھ مسلمان تباہ ہو رہا ہے تو میں نے اُس میں دخل دے دیا مگر ہر جگہ میں دخل نہیں دے سکتا۔لیکن وہ میرے پیچھے پڑا رہا۔اس پر میں نے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ کیا تم مجھے دوسو مسلمان دے سکتے ہو جو قید ہونے کو تیار ہوں؟ وہ کہنے لگا دو سو نہیں دو ہزار مسلمان مرنے کے لیے تیار ہے۔میں نے کہا مجھے مرنے کے لیے لوگوں کی ضرورت نہیں۔مجھے دو سو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو قید ہونے کے لیے تیار ہوں۔اگر آپ اتنے آدمی قید ہونے کے لیے دے دیں تو میں آپ لوگوں کی مدد کرنے کا ذمہ لے لیتا ہوں۔اُس نے پھر کہا کہ دو ہزار مسلمان مرنے کے لیے تیار ہیں۔میں نے کہا اس سے میرا کام بنتا نہیں بلکہ خراب ہوتا ہے۔مجھے صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو قید ہونے کے لیے تیار ہوں۔لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ دو ہزار مسلمان مرنے کے لیے تیار ہیں۔میں نے کہا آپ کا یہ خیال ہے کہ جو لوگ قید ہوں گے وہ تو کسی نہ کسی طرح چٹھیاں لکھتے رہیں گے کہ ہمارے بیوی بچے بھوکے مر رہے ہیں ان کا انتظام کیا جائے مگر جو مر جائیں گے اُن کا قصہ پاک ہو جائے گا۔وہ تو اپنے بیوی بچوں کے بھوکے مرنے کی شکایت نہیں کریں گے۔اس لیے قید ہونے کی نسبت مر جانا زیادہ آسان۔کہنے لگا بات تو یہی ہے۔