خطبات محمود (جلد 37) — Page 400
$1956 400 خطبات محمود جلد نمبر 37 کیونکہ در حقیقت یہ مامورین کا کام ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی خواہیں اور الہامات سنائیں) اپنے ساتھیوں کو بھی سکول میں سنا دی اور انہیں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب بھی میں سورۃ فاتحہ پر غور کروں گا اللہ تعالیٰ مجھے اس کے نئے نئے مضامین اور مطالب سمجھائے گا۔اتفاق ایسا ہوا کہ اُنہی دنوں ہمارے مدرسہ کی ٹیم کا خالصہ کالج امرتسر کی ٹیم کے ساتھ میچ مقرر ہو گیا۔چنانچہ ہماری ٹیم میچ کھیلنے کے لیے امرتسر گئی۔میں اگر چہ کھلاڑی تھا مگر اُس ٹیم میں شامل نہیں تھا۔تاہم دوست مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔جب میچ ہوا تو ہماری ٹیم نے سکھوں کے خالصہ کالج کی ٹیم کو بڑی بُری طرح شکست دی۔اس پر مسلمان بڑے خوش ہوئے اور انجمن اسلامیہ امرتسر والوں نے جس کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ شیخ صادق حسن صاحب بھی رہے ہیں کہا کہ ہم اس خوشی میں آپ لوگوں کو ایک پارٹی دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ پارٹی ہوئی اور میرے ساتھی مجھے بھی اس میں لے گئے۔ہم وہاں بیٹھے ہی تھے کہ اُن کا ایک عہدیدار میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بعد میں آپ نے تقریر بھی کرنی ہے۔میں حیران ہوا کہ مجھے تو نہ تقریر کی عادت ہے اور نہ اس موقع کے لیے میں نے کوئی تیاری کی ہوئی ہے۔میں بغیر تیاری کے کیا تقریر کروں گا۔پھر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی نئی بات بیان کی جائے تو وہ اُسے پسند کرتے ہیں۔لیکن اگر پرانی باتیں بیان کی جائیں تو کہتے ہیں ان باتوں کا کیا ہے یہ باتیں تو ہم نے بارہا سنی ہوئی ہیں۔بہر حال میں تقریر کے لیے کھڑا ہوا اور میں نے اُس وقت سورۃ فاتحہ پڑھی۔سورۃ فاتحہ کے پڑھتے ہی مجھے خیال آیا کہ ابھی میں اپنے ساتھیوں کو بتا رہا تھا کہ فرشتے نے مجھے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی ہے اور مجھے یقین ہے کہ جب بھی اس پر غور کروں گا اللہ تعالیٰ مجھے اس کے نئے نئے مضامین سمجھائے گا۔اب اگر میں نے سورۃ فاتحہ سے کوئی نئی بات بیان نہ کی تو یہ لوگ اعتراض کریں گے کہ ہم نے اس رویا کے بعد پہلی دفعہ تقریر میں آپ سے سورۃ فاتحہ سُنی اور پھر بھی آپ نے پرانے مضامین ہی دُہرا دیئے۔اس خیال سے میں بڑا گھبرایا مگر معا اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک نکتہ ڈال دیا اور میں نے کہا کہ سورۃ فاتحہ ایک ایسی سورۃ ہے کہ جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کے علم غیب کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھینچ جاتا ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ یہ سورۃ پہلی دفعہ مکہ میں اور دوسری دفعہ مدینہ میں