خطبات محمود (جلد 37) — Page 401
$1956 401 خطبات محمود جلد نمبر 37 نازل ہوئی ہے۔جب یہ سورۃ پہلی دفعہ مکہ میں نازل ہوئی تو اُس وقت سارا مکہ مشرک تھا۔عیسائی اور یہودی نہ تھا عیسائیوں کے صرف ایک دو غلام تھے جو مکہ میں رہتے تھے اور یہودی تو وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔پھر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے تو بیشک یہودیوں کے کچھ قبائل مدینہ میں اور کچھ خیبر میں موجود تھے مگر عرب پر اصل حکومت مشرکوں کی ہی تھی۔غرض مکہ میں بھی مشرک تھے اور مدینہ میں بھی مشرک تھے۔مگر دعا یہ سکھلائی گئی کہ یا اللہ! تو ہمیں یہودی بننے سے بچائیو۔حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ سب سے پہلے یہ دعا سکھائی جاتی کہ یا اللہ ! ہمیں مشرک ہونے سے بچائیو، یا اللہ ! ہمیں مکہ والوں کے دین میں داخل ہونے سے بچائی مگر کہا یہ گیا ہے کہ خدایا! ہم مغضوب اور ضات نہ ہو جائیں 1۔اور جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح فرمائی ہے مغضوب سے یہود اور ضالین سے نصالای مراد ہیں۔2 حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اُس وقت مکہ میں صرف چند عیسائی تھے اور وہ بھی نہایت ادنیٰ حالت میں تھے اور مکہ کے لوہاروں کے پاس نوکر تھے باقی سارے مشرک تھے۔مگر دعا سکھاتے وقت مشرکوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔اسی طرح جب مدینہ میں یہ سورۃ دوبارہ نازل ہوئی تو اُس وقت بھی مدینہ میں یہود کا کوئی زور نہیں تھا ان کے صرف ایک دو قبیلے موجود تھے۔مگر زیادہ طاقت مشرکوں کو ہی حاصل تھی۔بیشک روم میں عیسائیوں کی حکومت تھی مگر عرب لوگ روم کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ایران کی حکومت بڑی ہے اور پھر وہ بھی مدینہ سے آٹھ سو میل دور تھی۔غرض مکہ اور مدینہ اور عرب کے دوسرے شہروں میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کوئی زور نہیں تھا سارا زور مشرکوں کو حاصل تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے کہا تم دعا یہ کرو کہ ہم عیسائی نہ ہو جائیں جن کے مکہ میں صرف ایک دو غلام تھے۔اور دعا یہ کرو کہ ہم یہودی نہ ہو جائیں حالانکہ مدینہ میں اگر چہ کچھ یہود موجود تھے مگر وہ مشرکوں کے تابع تھے خود ان کو کوئی طاقت حاصل نہیں تھی۔غرض جن کو طاقت حاصل تھی اور جن کا ملک تھا اُن کا تو کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے فتنہ سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔یہ کتنی عجیب بات ہے۔یہ سوال تھا جو میں نے اپنی تقریر میں اُٹھایا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا جواب بھی سمجھا دیا اور میں نے کہا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہودیوں اور