خطبات محمود (جلد 37) — Page 386
$1956 386 خطبات محمود جلد نمبر 37 کی اطلاع ملی تو میں نے انہیں ایک چٹھی لکھی کہ آپ نے ایک پٹواری کی تو تعریف کی ہے لیکن اس بات کی وجہ سے ہمارے خلاف نوٹ لکھا ہے۔ہم بھی تو مقدمات کا فیصلہ اسی لیے کرتے ہیں کہ روپیہ ضائع نہ ہولیکن آپ نے ہمارے کام کو تو حکومت در حکومت قرار دیا اور اس پٹواری کو مقدمات کا فیصلہ کرنے کی وجہ سے قابلِ تعریف قرار دیا۔لارڈ ایمرسن آدمی تو غصہ والے تھے لیکن تھے شریف۔انہوں نے فوراً لکھا کہ میری غلطی تھی۔جو کام آپ لوگ کرتے ہیں مجھے اُس پر کوئی اعتراض نہیں۔غرض بعض لوگ ہمارے نظام کو حکومت در حکومت کہتے ہیں اور دوسرے وقت آپ ہی مدد لینے کے لیے آ جاتے ہیں۔ہمارے ایک احمدی دوست تھے۔اُن کی بہن کی کچھ لڑکیاں سید حبیب صاحب جو لاہور کی اخبار سیاست کے ایڈیٹر تھے انہوں نے مجھے لکھا کہ جو لڑکا ان کی شادی کی تجویز کر رہا ہے وہ ان کا حقیقی ماموں ہے اور میں رشتہ میں ان کا خالو ہوں۔میں پسند نہیں کرتا کہ ان لڑکیوں کا وہاں رشتہ ہو۔اس لیے آپ اس میں دخل دیں اور وہاں رشتہ کرنے سے اُسے روکیں ورنہ لڑکیوں کو تکلیف ہو گی۔میں نے کہا آپ خود ہی کہتے رہتے ہیں کہ یہ چیز حکومت در حکومت ہے پھر میں اُس کو کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ اس جگہ رشتہ نہ کرے۔انہوں نے کہا میں کبھی نہیں کہوں گا کہ یہ حکومت در حکومت ہے بلکہ ساری عمر آپ کا ممنونِ احسان رہوں گا۔آپ اس میں ضرور دخل دیں۔میں نے کہا یہ آپ کے گھر کا معاملہ ہے۔حکومت موجود ہے اُس سے امداد حاصل کریں۔کہنے لگے عدالت میں کون جائے؟ وہاں تو کوئی ہزاروں روپے خرچ کرے پھر کہیں ڈگری ہوتی ہے اس لیے آپ ہی اُسے سمجھا دیں۔وہ نوجوان مخلص احمدی تھا، ابھی تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہے، بڑا ذہین ہے۔اب بھی جب پیغامیوں نے کہا کہ جب بھی کوئی فتنہ اُٹھتا ہے تو اُسے خوامخواہ ہماری طرف منسوب کر دیا جاتا ہے تو اُس نے لکھا کہ جب مباہلہ اخبار شائع ہوا تو خود پیغامی مبلغ یہ اخبار لوگوں میں تقسیم کیا کرتے تھے اور میں اس کا گواہ ہوں۔خیر میں نے اُسے سمجھایا اور ایک اور دوست کے لڑکوں سے جو اُن کے دُور کے رشتہ دار بھی تھے اُن لڑکیوں کی شادیاں کرا دیں۔جب میں نے ان رشتوں کا سید حبیب صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا آپ کا