خطبات محمود (جلد 37) — Page 387
$1956 387 خطبات محمود جلد نمبر 37 احسان ہو گا اگر آپ یہاں رشتہ کرا دیں۔میرے خیال میں یہ رشتے اچھے ہیں۔اگر یہ لڑکیاں کہیں اور جائیں گی تو خراب ہوں گی۔غرض ہماری یہ حالت ہے کہ ایک دن تو ہم پر حکومت در حکومت قائم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے اور دوسرے دن وہی حکومت در حکومت کہنے والے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا فلاں سے سمجھوتا کرا دیں۔آج سے چند سال پہلے بیگم سلمیٰ تصدق حسین نے ایک دعوت کی۔نواب صاحب ممدوٹ اور میاں ممتاز دولتانہ بھی اُس دعوت میں شریک تھے۔میاں ممتاز دولتانہ میرے قریب آ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے نواب صاحب ممدوٹ آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا بڑی خوشی سے کریں اور جس وقت چاہیں کی تشریف لے آئیں۔انہوں نے کہا وہ کہتے ہیں کہ ملک فیروز خان صاحب نون نے میری مخالفت شروع کر دی ہے۔آپ ان کو سمجھائیں کہ وہ مخالفت نہ کریں۔میں نے کہا کہ یہ تو آپ کے گھر کا معاملہ ہے۔اگر میں نے یہ کام کیا تو آپ کہیں گے یہ حکومت درحکومت ہے۔انہوں نے کہا نہیں آپ انہیں کہیں گے تو وہ مان جائیں گے۔نواب ممدوٹ کہتے ہیں کہ میں ایک وزارت آپ کے اختیار میں دیتا ہوں۔وہ بیشک آپ نون صاحب کو دے دیں لیکن انہیں چُپ کرا دیں۔دوسرے دن نون صاحب میرے پاس آ گئے اور کہنے لگے نواب ممدوٹ صاحب سے میرا تصفیہ کرا دیں۔میں نے کہا یہ آپ کا گھر کا معاملہ ہے میں دخل دوں گا تو حکومت در حکومت ہو جائے گی۔کہنے لگے کوئی بات نہیں۔56 ممبروں کے دستخط اس وقت میری جیب میں موجود ہیں جو میری تائید میں ہیں۔میں نے کہا نون صاحب! آپ بڑے سادہ ہیں۔سادگی کی وجہ سے آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت 56 ممبر میرے ساتھ ہیں لیکن موقع پر 6 ممبر بھی آپ کے ساتھ نہیں رہیں گے۔میں آپ کو ایک آسان راستہ بتاتا ہوں۔میاں ممتاز دولتانہ میرے پاس آئے تھے۔وہ کہہ گئے ہیں کہ ممدوٹ صاحب ایک وزارت آپ کے ہاتھ میں دیتے ہیں وہ آپ نون صاحب کو دے دیں اور انہیں چپ کرا دیں۔آپ وہ وزارت لے لیں۔پھر جب آپ کی قابلیت ظاہر ہو گی تو آپ وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں۔کہنے لگے آپ جانتے ہیں نواب ممدوٹ سادہ مزاج ہیں۔میں نے کہا نون صاحب! آپ جانتے ہیں