خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 337

$1956 337 خطبات محمود جلد نمبر 37 ربوہ سے نکال دوں گا۔اور دوسری بات مری میں ایک دوست نے بتائی کہ اس شخص کا ایک کی دوست سرگودھا میں ایک وکیل کے پاس گیا اور اُس سے کہنے لگا کہ میں اپنے دوستوں کی ایک ارٹی بنا کر اس گاؤں میں جاؤں گا جہاں کا میرا دوست رہنے والا ہے۔اُس کے بھائی نے ساری زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔میں اپنے دوستوں کی مدد سے وہ زمین زبردستی چھین کر اپنے دوست کو دے دوں گا۔یہ دو واقعات ہیں جو مجھے پہنچے۔اب جو پہلا واقعہ ہے کہ مجھے دو سال میں اتنی طاقت نصیب ہو جائے گی کہ میں ربوہ جاؤں گا اور مرزا ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دوں گا۔اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ فی الواقع اُس نے یہ بات کہی تھی۔اور دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اُس نے یہ بات نہیں کہی۔رپورٹ کرنے والے نے کہا ہے کہ اس نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اسے کہا تھا کہ ایسی باتیں نہیں کہنی ہے سیں۔اگر اس شخص نے یہ بات نہیں کہی تھی تو اس شخص کو کہنا چاہیے تھا کہ جب میں نے اس سے کہا کہ ایسی باتیں نہیں کہنی چاہیں تو اُس نے کہا میں نے تو یہ بات نہیں کہی۔میں کوئی عالم الغیب ہوں۔پھر تم مجھ پر یہ الزام کیسے لگاتے ہو۔میں خدا نہیں کہ ایسی بات کہوں کہ دوسال کے بعد میں اتنی طاقت پکڑ جاؤں گا کہ ربوہ جا کر مرزا ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دوں۔اور نہ ہی میں کوئی ملہم ہوں کہ میں دعوی کروں کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ دوسال کے بعد میں اتنی طاقت پکڑ جاؤں گا کہ ربوہ جا کر مرزا ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دوں۔پھر جب میں نہ تو الہام کا دعوی کرتا ہوں اور نہ خدا ہونے کا تو میں مسلمان ہوتے ہوئے ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں۔لیکن اس دوست نے لکھا ہے کہ جب میں نے اُسے کہا کہ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیں اور اُسے سمجھایا تو اُس نے ایسا نہیں کہا۔اب صاف بات ہے کہ جب کوئی شخص مستقبل کی کوئی بات کہے تو یا تو وہ الہاما کہ سکتا ہے یا پھر وہ اس بات کا دعوی کرے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرح غیب کا علم ہے ورنہ مستقبل کے متعلق کوئی بات کہنی جائز کیسے ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو تو دو دن کی بات کا بھی علم نہیں ہو وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا لـ سکتا۔