خطبات محمود (جلد 37) — Page 338
$1956 338 خطبات محمود جلد نمبر 37 کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی۔اور جب خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی تو اگر کوئی شخص آئندہ دو سال بعد کی بات بتاتا ہے تو لازماً یہ بات ہوگی کہ یا تو اُسے الہام ہوا ہے اور یا وہ خدا تعالیٰ کی مانند عالم الغیب ہونے کا دعویدار ہے۔اگر یہ دونوں باتیں نہیں تو اسے کہنا چاہیے تھا کہ میں مسلمان ہوں میں عالم الغیب نہیں۔میں دو سال آئندہ کی بات کیسے بتا سکتا ہوں۔یا پھر انسان بعض دفعہ عقلی طور پر مستقبل کی بات بیان کر دیتا ہے تو اُس کے ساتھ دلیل بھی دیتا ہے کہ فلاں فلاں وجوہات کی بناء پر مجھے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر فلاں فلاں بات سے نظر آتی ہے۔مثلاً کسی شخص کو کوئی مُہلک مرض ہو جائے۔فرض کرو اُسے ہیضہ ہو جائے اور ڈاکٹر نہ ملے اور کوئی علاج نہ ہو سکے تو وہ کہہ دے کہ میرا خیال تو یہی ہے کہ مریض ایک دو دن میں مر جائے گا۔اُس وقت ہم یہ اعتراض نہیں کریں گے کہ وہ خدائی کا دعویدار ہے یا وہ مہم ہونے کا دعوی کرتا ہے۔بلکہ جب کوئی شخص اُس سے دریافت کرے گا کہ تجھے کس طرح علم ہوا کہ مریض ایک دو دن میں مر جائے گا؟ تو وہ کہہ دے گا کہ جب خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ علاج کے سامان میسر نہیں، ڈاکٹر ملا نہیں تو صاف پتا لگتا ہے کہ مریض مر جائے گا۔اس لیے ظاہری اسباب کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ بات کہہ دی ہے۔اسی طرح وہ شخص یا تو یہ کہتا کہ فلاں فلاں دلیل کی وجہ سے میں نے مستقبل کی بات کہہ دی ہے کہ دو سال کے بعد مجھے اتنی طاقت نصیب ہو جائے گی کہ میں ربوہ جا کر مرزا ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دوں گا تو ہم سمجھتے یہ انسانی بات ہے۔یا پھر وہ یہ کہتا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہاماً بتایا ہے کہ ایسا ہو گا تو ہم اُسے یہ جواب دیتے کہ ہمیں تمہارے الہام پر یقین نہیں۔تم اس قسم کی اور مثالیں پیش کرو کہ تمہیں الہام ہوا ہو اور پھر وہ پورا ہو گیا ہو۔اور اگر وہ خدا تعالیٰ کی طرح عالم الغیب ہونے کا دعوی کرتا تو ہم اسے جواب دیتے کہ یہ جھوٹ ہے۔ہم تجھے عالم الغیب نہیں مان سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی اور تو کہتا ہے کہ دوسال کے بعد مجھے اتنی طاقت ہو جائے گی کہ میں ربوہ جا کر مرزا ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دوں۔تو ابھی ربوہ میں آکے دکھا دے