خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 19

$1956 19 خطبات محمود جلد نمبر 37 محسوس ہوا اور کچھ گھبراہٹ بھی پیدا ہو گئی اور گھبراہٹ سے ہی ڈاکٹروں نے منع کیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے فضل کیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تقریروں اور ملاقاتوں کی وجہ سے طبیعت میں کسی قدر بے اطمینانی پیدا ہوئی لیکن جلسہ سالانہ کے دن خیر و عافیت سے گزر گئے۔ایک یا دو دن تکلیف رہی اس کے بعد طبیعت میں سکون اور اطمینان پیدا ہو گیا۔پھر ہم لاہور گئے۔لاہور سے آنے کے بعد ایک یا دو دن تکلیف رہی۔اس کے بعد جلد ہی طبیعت میں اطمینان اور سکون پیدا ہو گیا اور چھ سات دن تو میں نے نہایت آرام کے گزارے۔مگر پرسوں طبیعت دوبارہ نہایت خطرناک طور پر خراب ہو گئی۔بعض اوقات تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ساری بیماری کے دوران میں اس قدر شدید حملہ کبھی نہیں ہوا۔نسیان کی اتنی حد ہو گئی کہ نہایت ہی قریب کی نمایاں چیز بھی مجھے بھول جاتی تھی۔پہلے بھی نماز میں نسیان ہوتا تھا مگر بعد میں خدا تعالیٰ نے فضل کر دیا تھا اور وہ دور ہونا شروع ہو گیا تھا۔مگر ان دنوں تو یہ حالت ہوگئی کہ بارہا مجھے گھر والے بتاتے کہ آپ نے فلاں بات کہی تھی یا آپ نے فلاں دوائی پی تھی تو میں اُس کا انکار کر دیتا اور کہتا یہ بالکل غلط بات ہے۔میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی یا میں نے فلاں دوائی نہیں پی۔لیکن بعد میں گواہوں کی شہادت کی وجہ سے مجھے ماننا پڑتا کہ مجھے ہی بات بھول گئی تھی۔میں دوستوں سے پھر کہتا ہوں کہ وہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ میری بیماری کے بقیہ حصہ کو بھی دور فرمائے اور طبیعت میں سکون اور اطمینان پیدا کرے کیونکہ وہی زندگی کارآمد ہو سکتی ہے جس میں انسان عمدگی سے کام کر سکے۔اگر انسان اچھی طرح سے کام نہ کر سکے، اُسے اطمینانِ قلب نصیب نہ ہو، اُس کے دل پر خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی بارش نہ ہوتی رہے تو اُس کی زندگی ایک قسم کا عذاب بن جاتی ہے۔آج اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ تکلیف میں کسی قدر افاقہ ہے۔میری اس تکلیف کی یہ وجہ معلوم ہوئی ہے کہ میری انتڑیوں میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے قبض ہو گئی اور قبض بھی ایسی کہ میں نے دن میں دو دفعہ یعنی صبح اور شام جلاب لیا لیکن پھر بھی اجابت نہ ہوئی۔کل کیلومل‘ 1 لیا اور خدا تعالیٰ نے فضل کیا کہ آج صبح اجابت ہو گئی ہے۔اس لیے آج طبیعت نسبتاً بہتر ہے۔گو اتنی بہتر نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہو گئی تھی۔اُس وقت تو دماغ بالکل ساکن ہو جاتا تھا اور طبیعت مطمئن ہو جاتی تھی